اپنے بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کا بیان وفاقی حکومت کی کارکردگی کے خلاف جامع چارج شیٹ ہے، نوجوانوں کی محرومیاں دور نہ کی گئیں تو سڑکوں پر احتجاج پارلیمنٹ اور عدالت کا متبادل بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے غم و غصے میں اضافے سے قبل فوری نتیجہ خیز اقدامات کرنا ہوں گے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات سے نظام بچایا جا سکتا ہے تو اس پر فوری عمل کیا جائے، گورننس میں بہتری ہی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔
