امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ سینٹکام نے ایران پر مختصر اور طاقت ور حملوں کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے متعلق آج صدر ٹرمپ کو بریفنگ دی جائے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈ کوپر کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو منصوبے کے متعلق بتایا جائے گا، اس منصوبے کے تحت ممکنہ طور پر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اور سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران پاکستان کی کاوشوں سے جنگ بندی تین ہفتے قبل شروع ہوئی تھی۔
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، ایران نے جواباً اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کیے، امریکا-اسرائیل کے ایران پر حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ پہلے بھی ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، 1949 کے جنیوا کنونشنز کے تحت جنگ کے دوران شہریوں کے لیے ضروری مقامات پر حملے ممنوع ہیں۔