اقوام متحدہ کے لیے فلسطین کے سفیر سلامتی کونسل میں بچوں کی تکالیف بیان کرتے ہوئے ضبط کھو بیٹھے اور رو پڑے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق فلسطینی مندوب ریاض منصور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے جذباتی خطاب کے دوران رو پڑے، اور غزہ میں بچوں کی ’ناقابل برداشت‘ تکلیف کا ذکر کیا۔
امدادی جہاز ڈوبنے کے بعد دی گئی لائف بوٹ
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ غزہ میں رہنے والے فلسطینی ’بقا‘ سے بڑھ کر اپنے مستقبل کے مستحق ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی کوآرڈینیٹر سگرید کاگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جب سے غزہ میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئیں ہیں، وہاں عام شہریوں کی پہلے ہی نہایت خراب حالت مزید تباہی کی جانب جا رہی ہے، یہ صورت حال انسانوں کی پیدا کردہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کا صحت کا نظام ایک مسلسل فوجی مہم کے ذریعے منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے، موت فلسطینیوں کی ساتھی بن چکی ہے، یہ زندگی ہے نہ امید۔