بھارت: کمبھ میلے کے دوران بھگدڑ سے 30 افراد ہلاک، 60 زخمی – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

بھارت: کمبھ میلے کے دوران بھگدڑ سے 30 افراد ہلاک، 60 زخمی

بھارت میں دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع میں علی الصبح بھگدڑ مچنے سے 30 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے ہیں۔

واقعہ میلے میں شریک افراد کی جانب سے پولیس کے بنائے حصار سے نکلنے اور یاتریوں کے پیروں تلے کچلے جانے کے باعث پیش آیا۔

بھارتی ریاست اپرپردیش کے شہر پریاگ راج میں کمبھ میلے کی سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے پولیس چیف نے 30 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 25 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جب کہ 60 زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارت کے مذہبی اجتماعات بشمول کمبھ میلے میں ایسے واقعات ہونا معمول ہے، ہر بارہ سال بعد ہونے والے کمبھ میلے میں کروڑوں افراد کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے شمالی شہر پریاگ راج (الٰہ آباد) آمد ہوتی ہے۔

دریاؤں کے قریب زمین پر سوئے اور بیٹھے ہوئے لوگوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جب زائرین مذہبی رسم اشنان (نہانے) کے لیے پہنچے تو اندھیرے میں ان کی طرف آنے والے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے انہیں روند دیا۔

48 سالہ رینو دیوی نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ وہ دریا کنارے ایک منڈیر کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ زائرین کا ایک بڑا ہجوم ان کے اوپر سے چڑھتے اور روندتے ہوئے گزر گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب بھیڑ بڑھی تو بوڑھے افراد اور خواتین کو کچل دیا گیا اور کوئی بھی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔’

جائے حادثہ سے متاثرین کو لے جانے والی ریسکیو ٹیموں نے ان کے جوتے، لباس کے ٹکڑے اور دیگر ضائع شدہ چیزیں برآمد کیں۔

پولیس کو جائے وقوع سے حادثے کا شکار ہونے والے زخمیوں اور لاشوں کو موٹے کمبل میں لے کر جاتے دیکھا گیا۔

زخمیوں کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’حادثے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے جب کہ درجنوں زخمی ہیں۔‘

حادثہ مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے (پاکستانی 12:30 بجے) پیش آیا، مقامی انتظامیہ کی جانب سے روندے جانے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر انتہائی افسردگی کا اظہار کیا اور ہلاک افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’زخمی افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔‘

حادثے کی جگہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر میلے کے لیے بنائے گئے ہسپتال کے طور پر کام کرنے والے ایک بڑے خیمے کے باہر درجنوں رشتہ دار بے چینی سے خبروں کا انتظار کرتے رہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.