v
کمبوڈیا میں متعدد غیرقانونی تارکین وطن پاکستانیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
ایک پاکستانی شہری نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمبوڈیا کی جیل میں کئی پاکستانی قید ہیں اور انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔
شہری کا کہنا تھا کہ ایجنٹ کے ذریعے دو سال پہلے کمبوڈیا آئے تھے، ہمیں 22 اپریل کو پکڑ لیا گیا۔ ڈیپورٹ کرنے کےلیے 1500 ڈالرز رشوت مانگی جارہی ہے۔
پاکستانی شہری نے کہا کہ کمبوڈیا پولیس کو رشوت دینے کےلیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ جن برتنوں میں یہاں کتوں کو کھانا دیا جارہا ہے وہی برتن دھو کر ہمیں کھانا دیا جاتا ہے۔
شہری کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے لوگ چھ چھ ماہ سے قید ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں، حکومت پاکستان اور اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ ہماری داد رسی کی جائے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے 54 پاکستانیوں کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کردی اور کہا کہ باقیوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق پاکستانی سفارتخانے نے زیر حراست پاکستانیوں کے لیے قونصلر رسائی مانگ لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیر حراست افراد پر لگائے گئے چارج کی تفصیلات مانگی گئی ہیں، زیر حراست پاکستانیوں کو وطن وآپس لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، کمبوڈین حکومت تعاون کر رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پاکستانی کمبوڈیا میں ویزہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے پکڑے گئے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تین سال کے دوران 2 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو کمبوڈین حکام اور پاکستانی سفارتخانے کے تعاون سے وطن واپس لایا گیا۔ کمبوڈیا کی حکومت ہمارے سفارتخانے سے مکمل تعاون کر رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمبوڈین حکام نے صوبہ سیئم ریپ سے 54 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا۔