وائٹ ہاؤس میں اپنی گفتگو کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب چینی اور امریکی فوج نے ’فسطائی جارحیت‘ کے خلاف شانہ بشانہ جنگ لڑی تھی۔
انہوں نے کہا ’چینی عوام نے تاریخ کے اس باب کو کبھی فراموش نہیں کیا اور نہ ہی امریکی عوام نے۔‘
اسی تناظر میں صدر شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی و ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے تحت چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔
چین اور امریکہ کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر شی جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ دو پانڈا امریکہ میں اپنے نئے گھر اٹلانٹا زو میں امریکی عوام سے ملیں گے۔
پانڈا تحفے میں دینا طویل عرصے سے چین کی سفارتی دوستی اور خیرسگالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر صدر شی نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئیے اپنے عوام کی توقعات پر پورا اتریں اور تاریخی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ آئیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے مسلسل کام کریں اور مل کر ایک بہتر دنیا کی تعمیر کریں۔‘
