امریکا کی جانب سے رواں ہفتے پوری عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے عدالت کے روزمرہ امور بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں، یہ اقدام اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کے ردعمل میں سامنے آ رہا ہے۔
واشنگٹن پہلے ہی عدالت کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز پر انفرادی پابندیاں لگا چکا ہے، لیکن ادارے کے طور پر آئی سی سی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا ایک بڑی پیش رفت تصور ہوگی۔
معاملے سے آگاہ 6 ذرائع نے حساس نوعیت کے اس سفارتی معاملے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسی ’ادارہ جاتی پابندیوں‘ کا فیصلہ جلد ممکن ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق عدالت کے عہدیداران نے اس خدشے کے اثرات پر ہنگامی اندرونی اجلاس بھی منعقد کیے ہیں، جبکہ 2 دیگر ذرائع کے مطابق رکن ممالک کے سفارتکاروں کی سطح پر بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔