بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے دو الگ الگ حادثات میں چار کان کن جان کی بازی ہار گئے دونوں واقعات میں حفاظتی انتظامات کے فقدان کو حادثات کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، دکی کی ایک کوئلہ کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے دو کان کن موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جاں بحق مزدوروں کی شناخت زین اللہ اور سبحان اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
دوسرا حادثہ دکی کے نواحی علاقے چمالنگ میں پیش آیا، جہاں کوئلہ کان کے اندر زہریلی گیس بھر جانے کے باعث دو مزدور دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے لاشوں کو کان سے نکال کر مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، جاں بحق ہونے والے تمام مزدوروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔
چیف مائنز انسپکٹر رفیق اللہ کے مطابق دکی اور چمالنگ کی مذکورہ کانیں ناقص حفاظتی اقدامات کے باعث پہلے ہی سیل کی جاچکی تھیں، تاہم ان میں غیر قانونی طور پر کام جاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کانوں کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرادیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات معمول بنتے جارہے ہیں، جن کی بنیادی وجہ حفاظتی انتظامات کا فقدان قرار دیا جاتا ہے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ کان کنوں کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
*حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ کان کنی کے شعبے میں بین الاقوامی حفاظتی معیارات اپنائے جائیں، تاکہ مزدوروں کی قیمتی جانوں کا تحفظ ممکن ہوسکے۔