حکومت اپنے بیانیہ پر مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

حکومت اپنے بیانیہ پر مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت اپنے بیانیہ پر مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے بلوچ کو لا حاصل جنگ سے کوئی فائدہ نہیںہوگا خواتین کا احترام کرتے ہیں لیکن کالعدم تنظیموں نے خواتین کو خودکش بمبار بناکر خواتین کے احترام کو ختم کردیا چند مٹھی بھرعناصر کی جانب سے بلوچستان میں خونریزی کی جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا وطن کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں بندوق کے زور پر ایک انچ پر کسی دہشت گرد کو قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔ریاست کسی کو لاپتہ نہیں کررہی نوجوانوں کو دہشت گردی کی لا حاصل جنگ میں ایندھن نہیں بننے دیں گے۔ ریاست نے آئین اور قانون پر چلتے ہوئے ہارڈ اسٹیٹ بننا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کے دوران کیا اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات ، معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان سیاسی و میڈیا امور شاہد رند اور لائبہ بھی موجود تھی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفرازبگٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عوام کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زہری کے علاقے سے خاتون خودکش بمبار کی اطلاع پر گرفتاری احسن اقدام ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 1000 دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے تحصیل زہری گزگی کی رہائشی لائبہ نامی خاتون کو خضدار سے گرفتار کیا ہے جسے خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا اس کارروائی سے سیکورٹی فورسز نے کئی معصوم جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا ہے یہ وہ گول ہیں جو ہماری فورسز روکتی ہیں لیکن ان کی پذیرائی نہیں ہوتی میں سیکورٹی فورسز کو اس کاروائی پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کاروائی کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ آپریشن مکمل طور پر انسانی معلومات کی بناءپر کیا گیا اب بلوچستان کے عوام ایک طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر سے سیکورٹی فورسز سے تعاون کرتے ہوئے انہیں دہشتگردوں او ر ان کے سہولت کاروں سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوںنے کہا کہ روز اول سے کہہ رہا ہوں کہ اسلام، بلوچ و پشتون معاشرے اور دنیا بھر میں خواتین کا ایک مقام ہے لیکن بی ایل اور بشیر زیب خواتین کو خود کش بمبار بنا کر انکا استحصال کر رہے ہیں بلوچستان اور پاکستان میں کہیں بھی خواتین کی چیکنگ نہیں کی جاتی مگر اب دہشتگرد تنظیموں کی وجہ سے خواتین کی چیکنگ بھی کی جائےگی دہشتگرد تنظیمیں ہمارے معاشرے کو انتہائی پستی کی طرف لیکر جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں بلوچستان حکومت نے گرفتار ہونے والی خواتین کو کسی بھی طور پر ہراساں نہ کرنے، صرف خواتین اہلکاروں کو ان تک تفتیش سمیت دیگر امور کے لیے رسائی دینے سمیت ان کی عزت اور احترام کر برقرار رکھنے کے لیے واضح حکمت عملی اور تدابیر اپنائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں بلوچ قوم اور معاشرے کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں اس میں کشت و خون،بچوں،معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ہے معاشرے کو سوچنا ہوگا اور اب بلوچ قوم یہ سوچ رہی ہے کہ انہیں اس جنگ میں صرف استعمال کیاجارہا ہے اور اسکا کوئی منطقی انجام نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خودکش بمبار خاتون کو ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر میں رکھا جائےگا جہاں اس سے مزید تفتیش ہوگی اور خاتون نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ہر قسم کا تعاون کریگی انہوں نے کہا کہ گرفتار خاتون پر کسی قسم کا کوئی دباﺅ نہیں ہے اور نہ ہی اسے کسی قسم کی ہدایات دی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گرفتار خاتون لائبہ کی ایک شخص سے شادی ہوئی تھی جس کے بعد اس کے ایک کزن جو کہ خود بھی بی ایل اے کا سرگرم رکن ہے نے اسے خودکش بمبار بننے کی ترغیب دی دہشتگرد انٹرنیٹ کا منفی استعمال کر کے بچوں اور نوجوانوں کو دہشتگردی کی جانب راغب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ڈاکٹر صبیحہ سے بھی اس لڑکی کی ملاقات کروائی جانی تھی ہم روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ بی وائی سی نہ تو رجسٹرڈ ہے ساتھ ہی وہ بی ایل اے کی پراکسی بن کر ان کی منظم آواز ہے اور شہروں میں ان کے لیے پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سی ٹی ڈی کے لیے 10ارب روپے کی منظور ی دی ہے، 40ارب روپے کی لاگت سے بلوچستان میں بی ایریا کو اے ایریا میں ضم کیا جارہا ہے،دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اگر 100ارب روپے بھی دینا پڑے تو ہم خرچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے فیس لیس کور ٹس، وٹنس پروٹیکشن بل، ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر ز کے قیام سمیت دیگر اہم قانون سازیاں کی ہیں پچھلی حکومتوں نے اس لڑائی کو صرف سیکورٹی فورسز کی لڑائی تصور کرتے ہوئے اپنا کردار ادا نہیں کیا لیکن موجودہ حکومت نے اس جنگ کو اپنی جنگ تصور کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز سے دو قدم آگے کھڑے ہوکر اپنا کردار ادا کیا ہے 2018کے بعد بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو جیلوں سے نکال کر چھوڑا گیا اس پالیسی کی وجہ سے آج ملک میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے ایک ایسے دہشتگرد کے لیے فاتحہ خوانی ہوئی جس نے 210پنجابیوں کو قتل کیا تھا، وزیرخزانہ نے خیر بخش مری کے نام سے پروگرام شروع کرنے کی تقریریں کیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزاعلیٰ میر سرفرازبگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں میٹرو کریسی، گڈگورننس پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے 99فیصد بھرتیاں میر ٹ پر ہوئی ہیں حال ہی میں اے آئی کے ذریعے ٹیسٹ اور بھرتیاں کی گئیں جس میں میرے سیاسی و قبائلی مخالف نوابزادہ گہرام بگٹی کے پی ایس کا بیٹا منتخب ہوا جبکہ میرا پنا کزن فیل ہوا، صوبے بھر میں ڈپٹی کمشنر میرٹ پر تعینات ہور ہے ہیں، بی سی کی بھرتیوں میں میرٹ کا خاص خیال رکھا گیا، ہم نوجوانوں کو ریاست سے قریب کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں میں، کمانڈر 12کور، وزرائ، ڈپٹی کمشنر ز ملکر کر کھلی کچہریوں میں عوامی مسائل سنتے ہیں اب تک اس نوعیت کے 50ہزار سے زائد عوامی اجتماعات منعقد ہوچکے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ معروف بیانیے کے پیچھے چلنا آسان ہے ہم بھی یہی کر سکتے تھے مگر ہم نے پاکستان کا راستہ چنا ہے اور اس مشکل راستے میں 389شہداءدئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بھی لورالائی میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کا جنازہ پڑھا ہے ہم نے دہشتگردی کے چنگل سے نوجوانوں کو بچانا ہے نہ ہم تھک رہے ہیں اور نہ پریشان ہیں ہم نے پاکستان کی وہ خوبصورت کہانی دنیا کو سنانی ہے جو گزشتہ 30سالوں سے کسی نے نہیں سنائی۔ انہوں نے کہا کہ جنگی منافع خور وہ لوگ ہیں جن کا بیانیہ اور سیاست اس دہشتگردی کی جنگ اور لاپتہ افراد پر چل رہے ہیں ہمار افائدہ امن میں ہے او ر وہ ہم حاصل کریں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں آئیں اور گڈ گورننس، میرٹ، کرپشن کے خاتمے سمیت دیگر مسائل پر بات چیت کریں ہم نوجوانوں کو بھی بات چیت، مذاکرے کے ذریعے ریاست سے قریب کر یں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوائ، سندھ، اسلام آباد میں فیڈرل کانسٹیبلری تعینات ہے ہمیں بھی اضافی فورس کی ضرورت تھی جس پر اس کے 3ونگ مانگے گئے اس کا مطلب یہ نہیں ہے ہماری دیگر فورسز کمزور ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دنیا بھر میں غیر قانونی پناہ گزینوں کے لیے قوانین ہیں اور وہ ان پر عملدآمد کرتے ہوئے اپنے ممالک سے انہیں نکالتے ہیں پاکستان نے 40سال تک افغان مہاجرین کی میربانی کی جس کے بعد ریاست نے فیصلہ کیا ہے کہ یہاں کون رہے گا اور کون نہیں آج افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بناہوا ہے جہاں 27دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں پاکستان کو اگرچہ ایک یا دو تنظیموں سے مسئلہ ہوگا مگر دنیا بھر کو یہ بتانا چاہتاہوں کہ انہیں سوچنا ہو گا کہ یہ تنظیمیں کل ان کے لیے مسئلہ بنیں گی کیادنیا ایک اور /9 ´ ´ ´11 جیسے واقعہ کی متحمل ہوسکتی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کو دوحہ معاہدے کی بھی یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ جہاں انہوں نے قول کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن وہ اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر رہے۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیج رہے ہیں اگر کوئی پولیس اہلکار ان سے پیسے لے رہا ہے تو ایسی کالی بھیڑوں کی نشاندہی کی جائے تاکہ ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست نے اب آئین و قانون کے مطابق چلتے ہوئے ہارڈ اسٹیٹ بننا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کا ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر فعال اور وہاں زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقاتیں بھی جاری ہیں جبکہ تربت کا سینٹر بھی جلد فعال کر دیا جائےگاجس کے فنڈز جاری کردئیے گئے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.