واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی حملوں کے فیصلے سے متعلق ایک نیا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے ان کے قریبی مشیروں کی مشاورت اور سفارشات کارفرما تھیں۔
فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق صورتحال تیزی سے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی تھی جسے انہوں نے ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ قرار دیا، اس لیے پیشگی کارروائی کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا تھا۔
امریکی صدر کے مطابق ایران سے متعلق فیصلے کے دوران انہوں نے متعدد اعلیٰ سطحی مشیروں اور حکام سے مشاورت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر امریکا کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان مشیروں کی بریفنگ اور اطلاعات نے انہیں فوری اقدام پر آمادہ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے پیشگی کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران ایک ہفتے کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔ امریکی افواج نے کارروائی کے دوران ایران کی 51 بحری کشتیوں کو تباہ کیا جبکہ ڈرون بنانے والی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے بعد ایرانی ڈرون حملوں میں نمایاں کمی آئی اور یہ کمی تقریباً 83 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ایسے کم لاگت دفاعی انٹرسیپٹر نظام موجود ہیں جو ایرانی ڈرون کے خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان دفاعی نظاموں کے باعث امریکی افواج کو فضائی خطرات سے نمٹنے میں نمایاں برتری حاصل ہے اور مستقبل میں بھی کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری جواب دیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت فوجی ردعمل دے گا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا اور امریکا اس کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گا۔
انہوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ عالمی توانائی منڈی کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے اتحادی ممالک اور عالمی شراکت داروں سے مشاورت جاری ہے تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم بھی ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار تہران کے رویے پر ہوگا۔
انہوں نے ایران کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشیدگی کو مزید بڑھایا گیا تو امریکا اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے مزید اقدامات بھی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر مبینہ حملے کی اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے ایران کی نئی قیادت کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا تہران کی قیادت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی راہ اختیار کرنے کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔