طب کے شعبے کے عالمی شہرت یافتہ تحقیقی جریدے لینسٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں میں تعداد 38 ہزار سے زائد بتائی جارہی ہے تاہم درست تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہزار 200 سے زائد ہے تاہم خوراک کی تقسیم کے نیٹ ورکس اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کی وسیع تباہی کی وجہ سے اموات کی حقیقی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
لینسٹ کی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو بھی مالی امداد میں نمایاں کٹوتیوں کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ناگفتہ بہ صورت حال کے باعث غزہ میں ہونے والی بالواسطہ اموات براہ راست اموات کی تعداد سے تین سے 15 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں۔
رپورٹ میں اموات کی درست تعداد کے تعین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تاریخی احتساب کو یقینی بنانے اور جنگ کی مکمل قیمت کو تسلیم کرنے کے لیے حقائق کو درست رکھنا بہت ضروری ہے اور یہ ایک قانونی تقاضا بھی ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے رواں برس فروری میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 10 ہزار لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جب کہ غزہ کی 35 فیصد عمارتیں تباہ ہیں۔