مشرق وسطی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری خطرناک جنگ میں 2 ہفتے کا تعطل انتہائی خوش آئند خبر ھے جو ممکنہ طور پر مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ھے۔
رواداری تحریک پاکستان ان تمام شخصیات اور ممالک کو دل کی اتھا گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتی ھے جنہوں نے سیز فائر کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ھے۔
رواداری تحریک پاکستان بالخصوص وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، دفتر خارجہ کے اعلی عہدیداران اور پاکستان کی عسکری قیادت کی انتھک محنت اور کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ھے جس کی وجہ سے امریکہ اور ایران 2 ہفتے کی عارضی جنگ بندی کی مفاہمت تک پہنچے ہیں اور ہم پرامید ھے کہ فریقین کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات مستقل جنگ بندی اور امن کی بحالی کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہونگے۔
رواداری تحریک پاکستان کا موقف بہت واضح ھے کہ تنازعات اور مسائل کا حل جنگوں سے نکلنا ناممکن ھے کیونکہ جنگ ہونے کے باوجود بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر مسائل کو حل کرنا پڑتا ھے اور 5 ہفتے کی جنگ نے بھی یہی سبق سکھایا ھے۔
جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ خود ایک مسئلہ ھے۔ مشرق وسطی کی جنگ نے یہ ثابت کیا ھے کپ جنگ کس قدر بھیانک تباھی ، انسانی زندگی کے ضیاع اور عالمی معیشت کی بربادی کا ذریعہ بنتی ھے اس لئے جنگوں سے بچنا ہی بہترین حکمت عملی ھے۔
رواداری تحریک پاکستان ان تمام افراد کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کا اظہار کرتی ھے جن کی قیمتی جان جنگ کی نظر ہوگئی بالخصوص وہ تمام بچے جن کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر معصوم بچوں کو زندگی سے محروم کردیا گیا۔