ایک پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات کا ذکر کیا، ایک پوائنٹ پر عملدرآمد ہماری فوج کے ذمہ تھا، جس پر عملدرآمد جانوں کی قربانیوں سے ہو رہا ہے، باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری تھے جن پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سسٹم مضبوط کرنا اور بنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا فورم پارلیمنٹ ہے، محسن نقوی اسی پارلیمنٹ کے رکن ہیں، معاملے کو کابینہ میں بھی زیر بحث لایا جاسکتا ہے، اس سے سسٹم مضبوط ہوگا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔
