یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی حکومتیں اس بات کا انتخاب رکنے میں اپنی مرضی نہیں کرسکتیں کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی طرف سے 2 اسرائیلی رہنماؤں اور حماس کے ایک کمانڈر کے خلاف جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی کئی ریاستوں نے کہا ہے کہ ضرورت پڑی تو وہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کریں گے لیکن ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے نیتن یاہو کو اپنے ملک کے دورے کی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ اگر وہ آتے ہیں تو انہیں کسی قسم کے خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار جوزپ بوریل نے اسرائیلی اور فلسطینی امن کارکنوں کی ایک ورکشاپ میں شرکت کے لیے قبرص کے دورے کے دوران کہا کہ روم کنونشن پر دستخط کرنے والی تمام ریاستیں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہیں، یہ اختیاری معاملہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ذمہ داریاں یورپی یونین میں شامل ہونے کے خواہشمند ممالک پر بھی عائد ہوتی ہیں، یہ بہت مضحکہ خیز ہوگا کہ نئے آنے والے ممالک کے لیے ایک ذمہ داری ہے جسے پہلے سے موجود ممبران پوری نہیں کرتے۔