ایران نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور روس کو مسلح کرنے کے الزامات کے درمیان ایک فوجی پریڈ میں نئے بیلسٹک میزائل اور ایک اپ گریڈڈ یکطرفہ حملہ کرنے والے ڈرون کی نقاب کشائی کردی۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران پر مغربی حکومتیں الزام لگا رہی ہیں کہ وہ روس کو یوکرین کے ساتھ جنگ میں استعمال کرنے کے لیے ڈرون اور میزائل فراہم کر رہا ہے، تاہم تہران اس الزام کی بارہا تردید کرتا رہا ہے۔
ٹھوس ایندھن والے جہاد میزائل کو ایران کے پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس آرم نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے اور اس کی آپریشنل رینج ایک ہزار کلومیٹر ہے۔
اس نے مزید کہا کہ ’شہید-136 بی‘ ڈرون ’شہید-136‘ کا ایک اپ گریڈڈ ورژن ہے، جس میں نئی خصوصیات اور 4 ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی آپریشنل رینج ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں صدام حسین کے عراق کے ساتھ 88-1980کی جنگ کی یاد میں منعقد ہونے والی سالانہ پریڈ میں شرکت کی۔