اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ غزہ جنگی بندی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد مصر روانہ ہوگیا ہے، مصری حکومت نے مذاکرات میں بڑی پیشرفت کا امکان ظاہر کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مذاکراتی ٹیم قاہرہ پہنچے گی جہاں وہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کرے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفد کی سربراہی بیرونی سیکیورٹی سروس کے سربراہ شن بیٹ کررہے ہیں جبکہ دیگر افراد میں اسرائیلی آرمی کے افسران و اہلکار بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے آج جنگ بندی کے حوالے سے دوحہ میں مذاکرات کاروں سے ملاقات بھی کی ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق قطر نے قاہرہ میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کا انعقاد کیا ہے جس میں مصری، امریکی حکام بھی شریک ہیں اور اسرائیلی وفد مذکورہ حکام سے ملاقات کرے گا۔
مصری ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے پہلے چھ ہفتوں کے مرحلے کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی غزہ کے رہائشی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلاء اور جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی طریقہ کار اور بحالی کے معاملات پر بھی اتفاق ہوا تھا۔
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکا نے گزشتہ ماہ ایک روڈ میپ پیش کیا تھا جس کو اسرائیلی وزیراعظم نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ حماس نے کچھ شرائط بھی رکھی تھیں۔
بعد ازاں امریکی صدر نے جوبائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کی سب سے بڑی رکاوٹ حماس خود ہے۔