روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے

روسی افواج نے یوکرین کے پولتاوا اور اوڈیسا ریجنز میں ریڈار نظام، مختلف شہروں میں چار ڈیٹا سینٹرز، فوجی رسد کے مراکز، بندرگاہی تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کے مطابق حملوں میں گیران ڈرونز استعمال کیے گئے، جبکہ وزارت نے کارروائیوں کی ویڈیو بھی جاری کردی۔

روسی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ گزشتہ رات یوکرینی فوج کے زیر استعمال لاجسٹکس مراکز، نقل و حمل اور بندرگاہی تنصیبات کے علاوہ بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے گئے۔

روسی وزارتِ دفاع کے مطابق اوڈیسا ریجن کے علاقے الیچیفکا میں راکٹوں اور میزائلوں کے ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا۔

چرنومورسک کی بندرگاہ پر اس مال بردار بحری جہاز پر بھی حملہ کیا گیا، جو روسی حکام کے مطابق یوکرینی فوج کے لیے دوہرے استعمال کا سامان لے کر آیا تھا۔

ازمائل بندرگاہ میں فوجی سامان اتارنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

روسی افواج نے پولتاوا ریجن کے میرگورود اور اوڈیسا ریجن کے کاگارلیک میں یوکرینی ریڈار نظام پر گیران ڈرونز سے حملے کیے۔

روسی وزارتِ دفاع کے مطابق جنگی طیاروں نے دونیتسک عوامی جمہوریہ میں سویاتوگورووکا کے قریب یوکرینی نیشنل گارڈ کی 15ویں آپریشنل رسپانس بریگیڈ کے عارضی تعیناتی مرکز کو بھی تباہ کردیا۔

واریگ سیپریٹ ان مینڈ سسٹمز بریگیڈ کے ایک انٹرسیپٹر ڈرون نے 10 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر یوکرینی فوج کے ایک غبارے کو بھی نشانہ بنایا۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق اس غبارے کے ساتھ اسٹارلنک ماڈیول سے لیس ڈرون منسلک تھا۔

روسی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ گیران ڈرون آپریٹرز نے یوکرین کے مختلف شہروں میں پارکووی، یوکرٹیلی کام، گیگا اور پوڈولسکی ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنایا۔

کیف میں قائم اومیگا ٹیلی کام ڈیٹا سینٹر نے نقصان پہنچنے کے بعد اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کیا۔

یوکرینی انتظامیہ کے مطابق کیف کے زیر کنٹرول زاپوروژیا شہر میں دریائے دنیپر پر قائم ایک پل دھماکے سے متاثر ہوا۔

یوکرینی ذرائع ابلاغ نے کیف میں دریائے دنیپر کے پلوں کی طرف جانے والی شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام کی اطلاع بھی دی، تاہم ٹریفک جام کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

یوکرینی رکن پارلیمان آنا اسکوروخود نے دعویٰ کیا کہ دنیپر کے پلوں پر روسی حملوں کے دوران بڑی تعداد میں شہری کیف چھوڑ رہے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P