القاعدہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو مدد فراہم کررہی ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے درمیان روابط میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق2001 میں افغانستان سے القاعدہ کے انخلا کے بعد اس کے جنگجو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے، جہاں کالعدم ٹی ٹی پی نے انہیں پناہ دی۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے دونوں تنظیموں کے روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کی حکمت عملی، تربیت اور پروپیگنڈا صلاحیتوں میں اضافےکے لیے مدد فراہم کی ہے۔

رواں سال اپریل میں القاعدہ کے میڈیا ونگ نے پہلی مرتبہ کھلے عام پاکستان کے خلاف کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

امریکی پروفیسر امیرہ جدون کے مطابق دونوں تنظیموں کا تعلق نچلی سطح پر عملی معاونت سے لےکر اعلیٰ سطح پر بیانیےکے باہمی انضمام تک پھیلا ہوا ہے۔

ایک اور ریسرچ کنسلٹنٹ کا کہنا ہےکہ 2020 سے القاعدہ پاکستانی طالبان پر زور ڈال رہی ہےکہ وہ اپنی الگ تنظیم ختم کرکے القاعدہ میں ضم ہوجائے۔

بعض ماہرین کے خیال میں اس کوشش کے پیچھے افغان طالبان کا دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان طالبان نے مختلف عسکریت پسندگروہوں کو افغانستان میں پناہ، رہائش اور مالی وظائف سمیت مختلف سہولتیں فراہم کی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور القاعدہ برصغیر سے وابستہ افرادکو مقامی شناختی کارڈ بھی جاری کیے ہیں۔ ان میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ سے وابستہ ایغور بھی شامل ہیں جو ترکستان اسلامک پارٹی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ کی معاونت صرف کالعدم ٹی ٹی پی تک محدود نہیں بلکہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور اتحاد المجاہدین پاکستان جیسے عسکریت پسند گروہوں تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ برصغیر، اتحاد المجاہدین پاکستان کو تربیت اور حکمت عملی میں معاونت فراہم کرتی ہے۔

تاہم بعض ماہرین کے خیال میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے مقاصد اور حکمت عملیاں مختلف ہیں، لیکن نظریاتی مماثلت کی وجہ سے میڈیا، پروپیگنڈا، تربیت اور لاجسٹک معاونت کے شعبوں میں تعاون برقرار ہے۔

اقوام متحدہ نے دسمبر 2025 میں القاعدہ کو افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے لیے ایک ’سروس پرووائیڈر‘ قرار دیتے ہوئےکہا تھا کہ وہ انہیں تربیت، مشاورت اور لاجسٹک فراہم کرتی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P