وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے صدر ڈاکٹر تناکا اکیہیکو کی قیادت میں 9 رکنی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور جاپان کے درمیان دیرینہ شراکت داری، معاشی اصلاحات اور مختلف ترقیاتی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جاپان اور جائیکا کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ جائیکا کے صدر کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے اجتماعی کوششوں سے مشکل معاشی چیلنجز پر قابو پایا ہے اور اب پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران سرکاری محصولات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو ہنر، تکنیکی تربیت اور باعزت روزگار کی فراہمی، خواتین کو بااختیار بنانا اور معدنیات کے شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔
انہوں نے معدنیات کے شعبے میں جائیکا کے تکنیکی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) میں اصلاحات کی گئی ہیں اور اس شعبے میں جائیکا کا تعاون برآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے حالیہ زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر ڈاکٹر تناکا اکیہیکو سے تعزیت کا اظہار کیا، جس پر جائیکا کے صدر نے اظہارِ تشکر کیا۔
ڈاکٹر تناکا اکیہیکو نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جائیکا صحت، تعلیم، شہری و دیہی ترقی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور صنعتی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
جائیکا کے صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے پاکستان اور اس کی قیادت کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جاپان سمیت عالمی برادری ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، حنیف عباسی، سردار اویس احمد خان لغاری، شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاونینِ خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
