خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب دھماکے میں 9 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوگئے۔
ڈی پی او سوات عمر گنڈاپور نے کہا کہ کبل تھانے کے گیٹ کے قریب دھماکا ہوا، جس میں 4 پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت 9 افراد شہید ہوگئے ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مالاکنڈ سید فدا حسین نے بتایا کہ کبل پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب دھماکا ہوا ہے اور دھماکے کے وقت مقامی نوجوانوں کا احتجاج بھی جاری تھا تاہم احتجاج والا مقام دھماکے کی جگہ سے دور تھا۔
پولیس کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور تمام شہداء اور زخمیوں کو سنٹرل ہسپتال سوات منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری ڈی پی او سوات محمد عمر خان کی قیادت میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش تھا، جبکہ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر بھی ملا ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے بارودی مواد کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جبکہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔
