اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں بجلی کی مجموعی انسٹالڈ پیداواری صلاحیت بڑھ کر 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران بجلی کی پیداوار اور توانائی کے استعمال میں نمایاں پیش رفت ریکارڈ کی گئی۔
سروے کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران 92 ارب 83 کروڑ سے زائد یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ اسی عرصے میں 83 ارب 14 کروڑ سے زائد یونٹس بجلی استعمال ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستان میں 13 کروڑ 64 لاکھ ٹن پٹرولیم مصنوعات استعمال کی گئیں، جبکہ 21.41 ملین ٹن کوئلہ اور یومیہ اوسطاً 2 ہزار 929 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال ہوئی۔
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران انسٹالڈ کیپسٹی میں چار ہزار میگاواٹ سے زائد اضافہ ہوا۔ گزشتہ مالی سال میں یہ صلاحیت 45 ہزار 782 میگاواٹ تھی جو بڑھ کر 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ بھی بڑھا ہے اور مجموعی انسٹالڈ کیپسٹی میں رینیوایبل انرجی کا حصہ 20 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
بجلی کی پیداوار کے ذرائع کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں 46.9 فیصد بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا کی گئی، 30.1 فیصد پن بجلی سے حاصل ہوئی، جبکہ 18.5 فیصد بجلی جوہری توانائی سے پیدا کی گئی۔ اسی عرصے کے دوران 4.5 فیصد بجلی قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل کی گئی۔