- حکومتی وفد اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ کے متعلق ہنگامی اجلاس ہوا مگر ڈیڈلاک ختم نہ ہوسکا۔ ذرائع پیپلزپارٹی نے بتایا کہ حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ہے، بات چیت کی جا رہی ہے۔
پی پی کے ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی ٹیکا سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں، کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت صرف ایک صوبے کیلئے فنڈز دے رہی ہے، باقی تین منصوبوں کو فنڈز نہیں دیئے جارہے۔
پیپلز پارٹی نے بجٹ کے حوالے سے اپنی تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی ہیں، حکومت سفارشات کا جائزہ لے کر پیپلز پارٹی کو جواب دے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی جواب کے بعد دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔
قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ صوبوں سے مرکز 1700 ارب روپے کے فنڈز کا تقاضا کررہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ بجٹ کے لئے ایک نمبر پر بات چل رہی ہے، جب تک اس نمبر کے مطابق وسائل تلاش نہیں ہو جاتے تب تک بجٹ بنانے میں مشکل ہوگی۔