- جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ موجودہ حکومت جعلی ہے جو صرف پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑی ہے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عام آدمی کا سکون چھین لیا گیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ جے یو آئی اگلے جمعہ حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی جبکہ 12 اپریل کو مردان سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گھریلو تشدد سمیت کئی قوانین شریعت کے خلاف بنائے اور غیر اسلامی قوانین اسمبلی میں لائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت جعلی ہے اور پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑی ہے۔انہوں نے عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مغربی اور مشرقی سرحدیں بند ہیں، تجارت متاثر ہو رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان کیمرا بریفنگ میں بتانا چاہیے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، صوبائی حکومت آپریشنز کے معاملے پر متضاد پالیسی اپنا رہی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بھی ایوان میں پیش نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام حکومت اور ریاستی اداروں سے نالاں ہیں اور یہ حکومت ایک دن کی مار ہے۔
Trending
- Daily Mashriq 07-06-2026
- ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم سول اسپتال کا لفٹ آپریٹر نکلا،ذرائع
- کوئٹہ: سول ہسپتال میں دورانِ ڈیوٹی خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا گیا، ملزم فرار
- خبردار! سمز کے غیرقانونی استعمال کے معاملے پر ایڈوائزری جاری
- فلک شبیر کا عوامی مقامات پر چھوٹے کپڑے پہننے پر پابندی کا مطالبہ
- قومی ٹیم کے سابق کپتانوں کو پی سی بی میں اہم ذمےداریاں ملنے کا امکان
- کھیلوں میں بھارتیوں کا دہرا معیار ایک بارپھر بے نقاب
- کنگ چارلس سوم نے پروفیسر ڈاکٹر افضل جاوید کو OBE اعزاز سے نواز دیا
- 2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہو جائے گا: سہیل آفریدی
- سرکاری سکیم کے تحت پاکستانیوں نے رواں برس حج پر کتنی رقم خرچ کی؟
You might also like