پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر کے تمام قرضے رواں ماہ واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے یو اے ای کو ساڑھے 3 ارب ڈالر واپسی کے انتظامات کرلئے، یو اے ای کو 45 کروڑ ڈالر رواں ہفتے ہی ادا کردیئے جائیں گے جو پاکستان نے یہ قرضہ 97-1996 میں لیا تھا۔ حکام کے مطابق پاکستان رواں ماہ مزید 3 ارب ڈالر قرضہ بھی واپس کرے گا، متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر 17 اپریل کو واپس کئے جائیں گے، مزید ایک ارب ڈالر 23 اپریل کو واپس ادا کرنے کا شیڈول ہے۔ پاکستان نے عرب امارات سے 2 ارب ڈالر 2018 میں قرض لیا تھا، یو اے ای سے مزید ایک ارب ڈالر کے ڈیپازٹس 2023 میں حاصل کیے۔ پاکستان قرض رول اوور کرنے پر سالانہ 6.5 فیصد سود ادا کررہا تھا۔ حکام کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر قرض کی واپسی کیلئے کافی ہیں، 16.4 ارب ڈالر غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں۔ پاکستان 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کا انتظام بھی کررہا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ مل گیا۔
رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری شامل ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضامندی ضروری ہے۔
مجوزہ منصوبے میں پہلے جنگ بندی اور پھر حتمی معاہدہ شامل ہے ۔ منصوبے پر اتفاق ہوگیا تو 20 دن میں حتمی معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی ۔ فوری طور پر جنگ بندی ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔
سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق علاقائی ممالک ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان ،مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کی میزپر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں 45 روزہ سیزفائر اور اس کے بعد جامع اور حتمی معاہدے پر بات ہوگی۔ پس پردہ براہِ راست پیغامات کے ذریعے بھی رابطے جاری ہیں۔
امریکا کی جانب سے پیش کردہ متعدد تجاویز ایران کو قبول نہیں۔ ثالث کاروں کے مطابق حتمی معاہدے میں آبنائے ہرمزکھولنا اوریورینیم افزودگی کا معاملہ شامل ہوگا۔