افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلااشتعال حملے کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے، پاک افواج کے حملوں میں متعدد طالبان ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے، افغان طالبان کے فوجی ہیڈکوارٹرز، ٹینک، توپ خانے اور چوکیاں تباہ کر دی گئیں۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کی جانب سے مختلف سرحدی مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کا آغاز کیا اور افغان طالبان کے 80سے زائد ٹینک، توپ خانے اور بکتربند گاڑیاں تباہ کر دیں، 27 چوکیاں مکمل تباہ کر دی گئیں، 9 چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملے کی کوشش کی ہے، اینٹی ڈرون سسٹم نے تمام ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ان واقعات نے ایک بار پھر سے افغان طالبان رجیم اور پاکستان میں دہشت گردی کے درم ان براہ راست روابط کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قبل ازیں افواج پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی سے افغان طالبان شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے، گاڑی چھوڑ کر بھاگ گئے، جوانوں نے قبضہ میں لے لی، خوارج اپنے مورچے اور ٹھکانے بھی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے مقابل افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا، قبضے میں آنے والی پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل ، دو انگور اڈہ کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل میں ہیں۔ پاک فوج نے مؤثر کاروائی کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا۔ پاک فضائیہ نے بلااشتعال افغان جارحیت کے جواب میں افغانستان پر مؤثر فضائی حملے شروع کر دیے، ننگرہار کے اندر بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کر دیا گیا ہے، پاک فضائیہ نے کابل ، قندھار اور پکتیا میں اہم ملٹری تنصیبات کو بھی مؤثر فضائی حملے میں تباہ کر دیا۔
You might also like