کوئٹہ: بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سےصوبہ بھر میں خوراک کے معیار کو بہتر بنانے اور عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔اس سلسلے میں انسپیکشن ٹیموں نے کوئٹہ، دالبندین، پنجگور، صحبت پور، لورالائی، ڑوب، خضدار اور حب میں وسیع پیمانے پر انسپکشنز اور انفورسمنٹ کارروائیاں کیں۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 69 خوراک کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 100 سے زائد اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ معائنہ کیے گئے مراکز میں بیکنگ یونٹس، ملک شاپس، جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، نان شاپس، مصالحہ شاپس اور دیگر خوراک کے کاروباری مراکز شامل تھے۔ مختلف کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں ایکسپائرڈ، ممنوعہ اور غیر معیاری اشیائے خورونوش برآمد کرکے موقع پر تلف کر دی گئیں تاکہ یہ مصنوعات عوام تک نہ پہنچ سکیں۔کوئٹہ کے مختلف علاقوں نواں کلی، ایئرپورٹ روڈ، علمدار روڈ، پشتون آباد، جوائنٹ روڈ اور ارباب کرم خان روڈ سمیت دیگر مقامات پر بھی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مو¿ثر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کی جبکہ علمدار روڈ پر واقع ایک واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ میں بوتلوں کے ڈھکن اور لیبل پر مختلف تاریخِ تیاری اور معیاد ختم ہونے کی تاریخیں درج ہونے، لیبارٹری تجزیہ رپورٹس فراہم نہ کرنے اور مختلف ہوٹلوں و اداروں کے نام سے بوتل بند پانی مارکیٹ کرنے پر متعلقہ اسٹاک ضبط کر لیا گیا اور فوڈ بزنس آپریٹر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے دفتر طلب کر لیا گیا۔دوسری جانب بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا سیوریج کے پانی سے کاشت مضر صحت سبزیوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاو¿ن بھی بھرپور انداز میں جاری رہا۔ تازہ کارروائی کے دوران کلی رمضان، کوئٹہ میں تقریباً 27 ایکڑ رقبے پر سیوریج کے پانی سے کاشت کی گئی ہری پیاز، دھنیا، پودینہ اور پالک کی مضر صحت فصلیں تلف کر دی گئیں جبکہ مزید غیر قانونی کاشت کی روک تھام کے لیے سیوریج کے پانی کے تمام راستے بلاک کر دیے گئے۔واضح رہے کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جاری خصوصی مہم کے دوران اب تک 600 ایکڑ سے زائد رقبے پر سیوریج کے پانی سے کاشت کی گئی مضر صحت سبزیوں کی فصلیں تلف کی جا چکی ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں مرحلہ وار کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کہا ہے کہ صحت دشمن عناصر کے خلاف مرحلہ وار کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے اور مضر صحت خوراک کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ سیوریج کے پانی سے کاشت سبزیوں کو کسی صورت عوام کی دسترس تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
You might also like
