کوئٹہ (سٹی رپورٹر) نگران صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ناراض بلوچوں کے کمانڈر سرفراز بنگلزئی اور گلزار امام شمبے قومی دھارے میں شامل ہونے سے بھارت اور پاکستان دشمن قوتوں کو بلوچستان میں جاری مسلح تخریبی کارروائیوں میں بہت بڑا دھچکا لگا ہے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والوں کا مقصد اپنے مطالبات کی طرف توجہ مبذول کروانا نہیں تھا بلکہ یہ لانگ مارچ اپنے سہولت کاروں کے ذریعہ میڈیا میں تماشہ لگانا تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کا حکومت کا پختہ عزم ہے کسی کو غیر ملکی ایجنڈے پرعملدرآمد کرنے کی اجازت نہیں اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکا پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا قومی شاہراہوں کو بند کرنے والے دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں لاپتہ افراد دہشتگروں کے کیمپ میں ہیں حکومت قومی دائرے میں آنے والوں سے مذاکرات کرکے فراخ دلی کا مظاہرہ کررہی ہے یکجہتی کمیٹی کے احتجاج میں خواتین کو نشانہ نہیں بنایا گیا یہ دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ان کی آواز بن رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں لاپتہ افراد کے مسئلے کو اپنی انتخابی مہم کے لئے استعمال کر رہی ہیں ناراض بلوچوں کے کمانڈروں کی قومی دھارے میں شمولیت سے بھارت کو دھچکا لگا ہے کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کا مقصد بھارت کے لئے واویلا مچانا تھا دیگر قوموں کے افراد کے قتل پر کیوں آواز نہیں اٹھائی جاتی ہے لاپتہ افراد بھارت میں ہیں یا افغانستان کے کیمپوں میں ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے مطالبات غیر آئینی ہے ں یہ کوئی کمیٹی نہیں دہشت گردوں کا لانگ مارچ ہے مٹھی بھر افراد تمام بلوچوں کی نمائندگی نہیں کرتے ان کا مقصد سی ٹی ڈی کو غیر مسلح کرنا ہے یہ ریاست کا ادارہ ہے اپنے ادارے کو غیر مسلح نہیں کر سکتی تمام شاہراہوں کو منصوبہ بندی کے تحت بند کیا گیا انکا ایجنڈا معلوم ہے ان کی کوئی سہولت کاری برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چارج شیٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی احتجاج میں خواتین اور بچوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست دہشتگردوں کو کھلی چھٹی نہیں دے سکتی کہ وہ ماضی کی طرح جب شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابیوں سندھیوں، تعلیم یافتہ لوگوں، اور پشتونوں کا قتل عام کریں اور چند دانشوروں کو تو یہ بات اچھی لگتی ہے لیکن کوئی ذی شعور شخص اس کی حمایت نہیں کرسکتا لاکھوں کی تعداد میں غیر بلوچ پاکستانیوں کو بلوچستان سے نکالا گیا، ہزاروں کو قتل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس پر کالعدم تنظیم بی ایل اے کا احتساب،کمیشن کیوں نہیں بنتا؟تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ اس پر سب کو خاموشی کیوں سونگھ گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکائ کے مطالبات تسلیم کرلئے گئے اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور تحقیقاتی عمل شروع ہوا لیکن ان کے مقاصد کچھ اور تھے اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
You might also like