ملک میں عدالت انصاف اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں، محمود خان اچکزئی
پاکستان میں پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہونا چاہئے۔کوئی بھی ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا
پشین (نامہ نگار) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں عدالت انصاف اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے، عالمی سطح پر پاکستان اپنی حیثیت کھو چکا ہے ججز، جرنیلوں اور بعض سیاسی قائدین نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے،خزانہ خالی ہے ملک مالی بحران کا شکار ہے تمام مسائل کا حل گول میز کانفرنس میں ہے ہم پاکستان کیخلاف نہیں بلکہ سسٹم کے خلاف ہیں عوامی مینڈیٹ کو چوری کرکے چرواہا اور منڈی کے تونبے کو عوام پر مسلط کیا جارہا ہے جس سے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ بلوچستان کی سرزمین پشتون اور بلوچ کی ہے کسی نے خیرات میں نہیں دی پاکستان کو بنے ہوئے 75 سال ہوئے ہیں جبکہ ہم یہاں ہزاروں سال سے آباد ہیں۔پاکستان میں پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہونا چاہئے۔کوئی بھی ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا اسٹبلیشمنٹ کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ ہم آئی ایس آئی، ایم آئی کیخلاف نہیں ہیں اللہ انہیں مزید طاقتور کریں لیکن سیاسی معاملات میں مداخلت ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔ چمن پرلت میں بیٹھے عوام نے ثابت کردیا کہ وہ امن پسند لوگ ہیں انہیں چار ماہ ہوگئے دھرنا دیئے ہوئے لیکن افسوس سابقہ حکومت انکی بات نہ سنی جعلی مینڈیٹ لینے والے سلیکٹیڈ لوگ اور انکے والدین قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا انہوں نے عوامی مینڈیٹ چوری نہیں کی؟ کیا انہیں عوام نے ووٹ دیا؟۔ہم شریف لوگ ہیں خدارا ہمیں تنگ نہ کیا جائے اگر ہمیں مزید تنگ کیا گیا تو ہم اتحادی جماعتیں اپنی اسمبلیاں قائم کردیں گے۔ یہ بات انہوں نے حالیہ الیکشن میں مبینہ دھاندلی کیخلاف پشین میں الیکشن کمیشن کے آفس کے باہر چار اتحادی جماعتوں کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جلسے سے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے ساجد ترین ایڈوکیٹ، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اسحاق بلوچ، ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے داود ہزارہ سمیت عبدالرحیم زیارتوال، نصیر شاہوانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ میاں نواز شریف کا نعرہ تھا کہ ”ووٹ کو۔ عزت دو“ ہم نے عزت دی لیکن میاں صاحب نے خراب کیا۔رقبے کے لحاظ سے بلوچستان آدھا پاکستان ہے انکے وسائل پر اختیار پشتون بلوچ کا ہے۔حالیہ الیکشن میں دھاندلی کس کی ایمائ پر کی گئی چیف آف آرمی اسٹاف کو نوٹس لینا چاہئے۔دھاندلی کے ذریعے سلیکٹیڈ نمائندیں کسی کو منظور نہیں ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ دشمن چاہتے ہیں کہ پشتون بلوچ اور ہزارہ آپس میں دست و گریبان ہو، چار اتحادی جماعتوں کے قائدین کے کردار کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا ہے جعلی ووٹوں اور پیسوں سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو شرم آنی چاہئے۔ملک کے مسائل پر بات اداروں کو نہیں بلکہ سیاسی قائدین کو کرنی چاہئے۔