جنگ کا انیسواں روز، علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کے اسرائیل پر شدید میزائل حملے، 100 سے زائد اہداف تباہ اور 200 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

جنگ کا انیسواں روز، علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کے اسرائیل پر شدید میزائل حملے، 100 سے زائد اہداف تباہ اور 200 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ

مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال میں غیر معمولی کشیدگی برقرار ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تنازعہ انیسواں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد تہران کی جانب سے جوابی کارروائی میں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر شدید حملے کیے گئے، جن سے شہر میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی، اسرائیل نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی اہم شخصیت اور قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنایا ہے، تہران میں ایک خفیہ مقام پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے کارروائی کی، جس میں علی لاریجانی کو ہدف بنایا گیا، وہ تہران کے مشرقی علاقے میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے جب ان پر یہ حملہ کیا گیا، ایرانی حکام نے اس واقعے میں علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ کی شہادت کی بھی تصدیق کر دی ہے، اس سے قبل علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک جذباتی اور ہاتھ سے تحریر کردہ پیغام جاری کیا گیا تھا، جس میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور قربانیوں کو سراہا گیا۔

 

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے اپنے قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں کلسٹر وارہیڈز والے جدید میزائل بھی استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ عمارتیں بھی شدید نقصان کا شکار ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جس سے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔

 

ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ کے تحت اسرائیل کے خلاف حملوں کی 61 ویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، تل ابیب پر خرمشہر 4، قدر، عماد اور خیبرشکن میزائل داغے گئے، جنہوں نے 100 سے زائد فوجی اور سیکیورٹی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 200 اسرائیلی شہری اور اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جس سے شہر میں ہولناک جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 

پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی اور دیگر شہداء کے خون کا سخت انتقام لینے کا واضح اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم نے علی لاریجانی کی شہادت کے بعد جاری بیان میں کہا کہ عظیم شہید اور دیگر قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی کو ایک ممتاز شخصیت، بصیرت یافتہ مفکر اور انقلابی رہنما قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا خون دیگر شہداء کی طرح ایران کی عزت، طاقت اور قومی بیداری کا سبب بنے گا، وہ علی لاریجانی اور دیگر شہداء کے خون کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے اور اس کا حساب لازمی لیا جائے گا۔

 

عالمی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، بحرین اور قطر نے حالیہ گھنٹوں میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ کویت کی نیشنل گارڈ نے ایک ڈرون کو مار گرانے کی تصدیق کی ہے جبکہ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایک میزائل کو فضاء میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات میں بھی فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا، جہاں دبئی سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جو دفاعی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئے۔ سعودی عرب نے مشرقی علاقوں میں ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ بحرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک اس نے سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

 

خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 1500 سے زائد افراد شہید اور 18 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

 

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری تنازعے کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد کیے جانے پر واضح موقف اختیار کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک عالمی طاقت ہونے کے ناطے امریکا اپنے فیصلے خود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کسی بیرونی تعاون کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اتحاد نے سنگین غلطی کی ہے اور اس وقت اسے امریکا کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے آبنائے ہرمز میں کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں شمولیت نہ دینے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میکرون جلد عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ٹرمپ نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک امریکا کے مؤقف سے متفق ضرور تھے، لیکن دشوار وقت میں انہوں نے عملی حمایت فراہم نہیں کی۔

 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد اپنے ردعمل میں واضح پیغام دیا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت بلاشبہ ایک بڑا نقصان ہے، تاہم ایران کا نظام کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ ایک مضبوط اور منظم ڈھانچے پر قائم ہے، اس نظام میں ہر فرد اپنی ذمہ داری اور حیثیت کے مطابق کردار ادا کرتا ہے، اس لیے کسی ایک شخصیت کے چلے جانے سے ریاستی طاقت کمزور نہیں ہوتی، امریکا اور اسرائیل یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ اس نوعیت کے اقدامات ایران کو کمزور نہیں کرسکتے۔

 

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں شہید علی لاریجانی کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید ایک نہایت باصلاحیت، باوقار اور قیمتی شخصیت کے حامل رہنما تھے، جنہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور اپنی بصیرت و تجربے سے ملک و قوم کی رہنمائی کی، علی لاریجانی نے خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، علی لاریجانی کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی اور اس کا سخت جواب دیا جائے گا، ایران اپنے شہداء کے خون کا حساب ضرور لے گا اور دشمن کو اس اقدام کی قیمت چکانا پڑے گی۔

 

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث فضائی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے اور آج بھی پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں سے مزید 83 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، منسوخ ہونے والی پروازیں کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، ایران، عراق اور قطر کے لیے روانہ ہونے والی یا وہاں سے آنے والی تھیں، فضائی راستوں میں ممکنہ خطرات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز نے اپنے فلائٹ آپریشنز کو عارضی طور پر محدود کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں اور ان کے سفری منصوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.