سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر نے ریمارکس دیے ہیں کہ پگڑیوں کو فٹبال بنانے کا کہہ کر کیا ہمیں دھمکایا جارہا ہے۔
سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اڈیالہ جیل سے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔
چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل دیے کہ مرکزی کیس کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں، ہائی کورٹ میں زیرسماعت درخواست سپریم کورٹ نہیں سن سکتی، نیب ترامیم کیس سپریم کورٹ میں قابل سماعت نہیں تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے بھی کہا کہ الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں، عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا، پریکٹس اینڈ پروسیجر معطل کرنا درست تھایا غلط مگر بہرحال اس عدالت کے حکم سے معطل تھا، کرپشن کے خلاف مضبوط پارلیمان،آزاد عدلیہ اور بے خوف لیڈر کا ہونا ضروری ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تینوں چیزیں موجود ہیں، یہاں تو اسے ختم کرنے کے لیے کوئی اور آرڈیننس لایا جارہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک قانون کو معطل کرکے پھر اس کیس کو سناہی نہ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا، آپ کو قانون پسند نہیں تو کیا پورا کیس سن کر اسے کالعدم کردیں ، ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا فوج قانون توڑے ایک ہی بات ہے، ہم کب تک خود کو پاگل بناتے رہیں گے، قانون کو معطل کرنا بھی نظام کے ساتھ ساز باز کرنا ہے۔