سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کیس میں عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔
سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ معاملہ ہائیکورٹ کے فیصلے تک سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گا۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جانب سے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ اور جبران ناصر عدالت میں پیش ہوئے۔فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ملزمان کو جرح کا موقع نہیں ملا اور نہ ہی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کیا گیا۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ دو ماہ گزرنے کے باوجود سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں کر رہی۔ سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ دو آپشنز ہیں، یا ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے کی ہدایت دی جائے یا درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا رکھتے ہوئے ہائیکورٹ کو ہدایات جاری کی جائیں۔
سماعت کے دوران دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ جسٹس شفیع صدیقی نے ریمارکس دیے کہ آج تو فیصل صدیقی نے خاصا ائیر ٹائم لے لیا، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ ایمان مزاری میری بہنوں جیسی ہیں۔ بعد ازاں جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سب سے بڑھ کر ایمان مزاری اس ملک کی بیٹی ہیں۔