وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، پرویز خٹک،احد چیمہ، مصطفٰی کمال اور ہارون اختر شریک ہوئے۔
وفاقی کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں.
اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی، وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چودھری ایوانِ صدر پہنچ گئے، صدر مملکت کو وفاقی کابینہ کے فیصلہ سے آگاہ کیا۔
قبل ازیں ذرائع کے مطابق کابینہ میں یہ تجویز دی گئی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمن کے ذریعے آخری کوشش کی جائے۔
اجلاس کے دوران ہی نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔