علیمہ خان کے وکیل محمد فیصل ملک سمیت ان کی قانونی ٹیم عدالت میں پیش ہوئی، تاہم عدالتی عملے نے انہیں بتایا کہ جج ایک خصوصی کورس میں شرکت کے لیے رخصت پر ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے صادق آباد تھانے میں درج اس مقدمے کا فیصلہ پہلے ہی محفوظ کر رکھا تھا، فیصلے کا اعلان اس سے قبل بھی دو مرتبہ مؤخر کیا جا چکا ہے۔
یہ مقدمہ 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق ہے، اس روز پابندیوں اور سکیورٹی لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی کے 10 ہزار سے زائد کارکن دارالحکومت میں داخل ہوئے، جہاں مارچ کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے تقریباً 20 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
اسلام آباد کے ریڈ زون میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، ایک روز کی کشیدگی کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے واپسی کا اعلان کیا اور پارٹی نے اپنا مجوزہ دھرنا فی الوقت معطل کرنے کا کہا۔
بعد ازاں حکام نے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت مقدمات درج کیے، ٹیکسلا پولیس سٹیشن میں دو، جبکہ صادق آباد اور نصیرآباد پولیس سٹیشنوں میں ایک، ایک مقدمہ درج کیا گیا۔
صادق آباد تھانے میں درج مقدمے میں علیمہ خان اور 10 دیگر افراد نامزد ہیں۔