وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹریز اور ان کی بیواؤں کو دی جانے والی تاحیات کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی منظوری سے جاری مراعات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان کی اپیل مسترد کر دی۔ جسٹس عامر فاروق نے 4 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے خلاف کیا گیا ہر حکومتی اقدام بلاجواز ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق ریٹائرڈ افسران کو صرف وہی پینشن اور مراعات دی جا سکتی ہیں جو قانون میں درج ہوں جبکہ اضافی تاحیات مراعات کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تنخواہوں، پینشن اور مراعات سے متعلق قواعد بنانے کا اختیار صرف فنانس ڈیپارٹمنٹ کو حاصل ہے اور وزیرِ خزانہ یا چیف سیکریٹری کو اس حوالے سے کوئی اختیار نہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان ہائی کورٹ بھی ان مراعات کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جس کے خلاف صوبائی حکومت نے اپیل دائر کی تھی جو اب مسترد ہو گئی ہے۔
Trending
- این ڈی ایم اے کا حالیہ موسم گرما گزشتہ سال سے زیادہ شدید ہونے کا انتباہ
- فٹبال ورلڈ کپ کے نئے گانے کے ٹیزر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا
- دشمن جنگ میں ناکامی کے بعد اب معاشی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے، ایرانی صدر
- مزید 4077 پاکستانی عازمین حج سعودی عرب پہنچ گئے، ترجمان وزارت مذہبی امور
- مہلک ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ اسپین کے جزیرے ٹینیریف پہنچ گیا
- Daily Mashriq Quetta10-05-2026
- نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی سافا عہدیداران سے سائیڈلائن ملاقات
- معرکہ حق کی کامیابی کاپہلاسال، افواج پاکستان کی قوم کومبارکباد
- ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صحت یاب ہورہےہیں: سی این این
- سپاہی سے لےکرفیلڈ مارشل تک سب کوسلام پیش کرتے ہیں: رانا ثناء اللہ کا معرکہ حق کی تقریب سے خطاب
You might also like