وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹریز اور ان کی بیواؤں کو دی جانے والی تاحیات کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی منظوری سے جاری مراعات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان کی اپیل مسترد کر دی۔ جسٹس عامر فاروق نے 4 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے خلاف کیا گیا ہر حکومتی اقدام بلاجواز ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق ریٹائرڈ افسران کو صرف وہی پینشن اور مراعات دی جا سکتی ہیں جو قانون میں درج ہوں جبکہ اضافی تاحیات مراعات کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تنخواہوں، پینشن اور مراعات سے متعلق قواعد بنانے کا اختیار صرف فنانس ڈیپارٹمنٹ کو حاصل ہے اور وزیرِ خزانہ یا چیف سیکریٹری کو اس حوالے سے کوئی اختیار نہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان ہائی کورٹ بھی ان مراعات کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جس کے خلاف صوبائی حکومت نے اپیل دائر کی تھی جو اب مسترد ہو گئی ہے۔
Trending
- سعودی وزارت حج نے کم عمر بچوں سے متعلق نئی پالیسی واپس لے لی
- ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 200 روپے کی معمولی کمی
- ترجمان دفترخارجہ نے افغانستان کیلئےبرطانوی نمائندہ خصوصی کے پاک افغان سرحد سے متعلق ریمارکس مسترد کردئیے
- عمران خان کی رہائی کیلیے پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کا جلسے جلوس کرنے کا اعلان
- والد سے بہت ڈرتا تھا اسلیے 2 فلمیں بغیر اسکرپٹ پڑھے کیں، عامر خان کا انکشاف
- ’’آنکھیں بند کرو، رقم ڈبل‘‘ شہری نے ایک لاکھ روپے دیدیے، پھر کیا ہوا؟
- سعودی عرب کی 15سال سے کم عمر بچوں کو حج پر لے جانے پر پابندی
- عمران خان سے کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، عدالتیں فیصلے سنائیں گی: رانا ثنا اللہ
- ایک ہفتے میں یوکرینی افواج کو بھاری نقصان، 8 ہزار سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ
- بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹریز کی تاحیات مراعات کالعدم قرار
You might also like