بھارتی ریاست ہریانہ میں پولیس سے جھڑپوں میں ایک کسان کی ہلاکت پر ‘’دلی چلو مارچ‘ 2 دن کے لیے منسوخ کر دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز پولیس سے جھڑپوں کے دوران سر میں گولی لگنے سے 23 سالہ کسان کی موت ہوئی تھی جس کے نتیجے میں کسان مارچ کو دو دن کے لیے معطل جبکہ کسانوں کی جانب سے ہریانہ سرحد پر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ ہریانہ کے سات اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش میں کل تک توسیع کر دی گئی ہے۔
بھارت میڈیا کے مطابق کسان گروپوں نے کسان کی ہلاکت کا ذمہ دار ریاستی پولیس اور مرکزی حکومت کو ٹھرایا ہے جبکہ ہریانہ پولیس نے اس واقع کی تردید کی ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہریانہ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز کسانوں نے لاٹھیوں اور پتھروں سے پولیس پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 12 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرتے کسانوں پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج، پلاسٹک کی گولیاں اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ مودی حکومت کے خلاف بھارتی کسان حکومت سے MAC اور تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے دوران کسانوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔