کوئٹہ (سٹی رپورٹر) کوئٹہ میں ریٹرننگ آفیسران کے دفاتر سے نتائج کے حصول میں مشکلات کا سامنا الیکشن کمیشن کے دعووں کے برعکس ریٹرننگ آفیسران کے دفاتر میں کوئی میڈیا وال نصب نہیں کی گئی موبائل و انٹرنیٹ سروس کی بندش سے سیاسی جماعتوں کو پولنگ ایجنٹس سے بھی نتائج کے حصول میں مشکلات پولنگ اسٹیشنوں سے رزلٹ اور پولنگ عملے کو ریٹرننگ آفیسر کے دفتر منتقلی میں تاخیر، خواتین عملے کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے رات 9 بجے رزلٹ مکمل کرکے پولنگ اسٹیشن میں گاڑی کا انتظار کرتے رہے، موبائل و انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے گھر والوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جمعیت علما اسلام کے رہنما وسینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے الیکشن کمیشن کے انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو بار آر او کے دفتر کا چکر لگا رہے ہیں رزلٹ کا کچھ پتا نہیں، اس طرح کے الیکشن پہلے کبھی نہیں دیکھے ، ہم 2018 کے الیکشن کو رو رہے تھے 2024 کے تو اس سے بھی بدتر ہوئے ہیں ، جمعیت علما اسلام کے امیدوار این اے 264 مولانا عبدالرحمان رفیق پولنگ ایجنٹس میں کچھ کو فارم 45 ملا ہے کچھ کو نہیں، مولانا عبدالرحمان رفیق نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جبکہ پشتونخوامیپ کے امیدوار عبدالقہار خان ودان نے پی بی 41 کے نتائج روکنے کا مطالبہ کردیاآزاد امیدوار کے لئے جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر پریذائنڈنگ آفیسر گرفتار ہوا، امیدوار پی بی 41 قہار خان ودان نے کہا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نتیجہ جاری کرنے سے پہلے معاملے کی تحقیقات کریں لیفینٹ (ر)سعد بن اسد ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کوئٹہ کا ویڈیو بیان پریذائیڈنگ آفیسران کو آر او دفاتر لانے میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پیش آیا ہے، متبادل ٹرانسپورٹ کا انتظام کردیا ہے، جلد نتائج جاری کرنا شروع کردیں گے۔
You might also like