توبہ اچکزئی +چمن ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ چمن پرلت نے جو بھی احتجاجی لائحہ عمل اعلان کیا ہم اس کا بھرپور ساتھ دینگے،جنگ جھگڑے نہیں پر امن طریقے سے اپنے انتخابات لڑنے ہونگے کسی نے ہمارے ساتھ دھاندلی کی تو پھر سارے لوگ چمن دھرنے کے طرز پر جنوبی پشتونخوا کے چپے چپے میں احتجاج کرینگے، پاکستان بناتو بعد میں لوگوں نے یہاں آئین بننے نہیں دیا ، انگریزی استعمار کا یہاں سے واپس جانا پشتونوں کی قربانیوں کے بدولت ممکن ہوااور عوام کو غلامی سے نجات اور آزادی ملی، آج بھی پشتون اس ملک میں اپنے قومی وحدت ، وسائل پر واک واختیار سے محروم ہے ،پشتون قوم کے جغرافیے کا ادراک کیئے بغیر ان پر فیصلے مسلط کیئے گئے جس پر خان شہیدکو اپنی چالیس سالہ رفاقت ختم کرنی پڑی کیونکہ خان شہید سیال قوم کی حیثیت سے پشتونوں کیلئے اپنا صوبہ چاہتے ہیں ، توبہ اچکزئی بہادر پشتون قوم کے مختلف غیور قبائل کی آماجگاہ ہے، کوئٹہ شہر پشتونوں کا مسکن آرام گاہ اور آماج گاہ ہے،خان شہید اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنہ اوڑک میں بیٹھے اور پارٹی بنائی اس سُرخ سفید سبز پرچم کا اعلان کیا،لوگ پارٹی سے صرف اس لیئے نفرت کرتے ہیں کہ یہ پارٹی پشتونوں کو یکجا اور متحد کرنا چاہتی ہے اور زئی وخیلی اورنفرتوں کومٹانا چاہتی ہے ،اپنی سرزمین اور نعمتوں کو دوسروں کیلئے چھوڑنا بے غیرتی جبکہ دوسروں کی نعمتوں یا زمینوں پر قابض ہونا ظلم ہے ۔ ہم نے دونوں سے بچنا ہوگا ،ہمارے وطن کے بچے بھی باصلاحیت ہیں وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں سے ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں اور اپنے وطن اور عوام کی خوشحالی میں کردار ادا کرسکتے ہیں ،قوموں کی ترقی وترویج میں اساتذہ کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے ۔ انتخابات کے دن ہیں غیور عوام 8فروری کو پشتونخوامیپ کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنانے کیلئے ”درخت “ کے انتخابی نشان پر اپنا مہر لگائیں ۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین NA-266چمن ، قلعہ عبداللہ ، NA-263کوئٹہ IIسے پارٹی کے امیدوار محمود خان اچکزئی نے انتخابی مہم کے سلسلے میں سپین تنگی زیمل دوبندی ۔ چمن دامان میرالزئی میں حاجی نور محمد نورزئی کی رہائش گاہ پر 2000سے زائد افراد کی انتخابات میں پارٹی کی حمایت کے موقع پر منعقدہ اجتماع اور حاجی احمد شاہ خان ادوزئی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اولسی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس سے پارٹی کے ضلع سیکرٹری صحبت خان اچکزئی و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ توبہ اچکزئی کے عوام کا بھرپور شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اتنی شدید سردی میں پارٹی پروگرام میں کثیر تعداد میں شرکت یقینی بنائی ، توبہ اچکزئی بہادر پشتون قوم کے مختلف غیور قبائل کی آماجگاہ ہے ،پشتون طاقتور قوم تھی ان کی مرضی کے بغیر ایران ہندوستان اور آس پاس کہیں بھی بادشاہت کا قیام ناممکن تھا ۔ ہمارے داد پر دادا اور اجداد نے سینکڑوں سالوں تک بہت بڑے خطے پر حکمرانی قائم رکھی تھی ۔ پشتون قوم آج بھی وہی قوم ہے تعداد کے ؒلحاظ سے پچھلے وقتوں سے اب زیادہ ہوئی ہے محنت کش قوم ہے کہیں بات بگڑنے اور ادھر اُدھر ہونے کی وجہ سے آج اس کمزور حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں لیکن یہ امید ہے کہ ایسی ہوائیں چلنے لگی ہیں جو قوموں کو جگانے انہیں متحد کرنے میں مدد دے گی۔ اور پشتون قوم کے نوجوانوں میں بیداری پیدا کردیگی ، عوام اکھٹے ہورہے ہیں ہر جگہ لوگ پشتونوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے پشتون قوم کو کہیں بھی نہیں چھوڑا جارہا تھا ۔ اس ملک میں سیاسی لوگ اکھٹے ہوئے اور فیصلہ کیا کہ ایک ایسے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرینگے جس میں شامل تمام قوموں کے اپنے صوبے ہوں اور اس میں موجود وسائل کے واک واختیار پر ان کا کنٹرول ہو۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب پاکستان بناتو بعد میں لوگوں نے یہاں آئین بننے نہیں دیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے بنگالی ، پنجابی ، بلوچ ، سندھی اور پشتون سیاست دان مل بیٹھے اور ایک ایسے پاکستان کے بننے کا اعادہ کیا جس میں ہر قوم کی تاریخی زمینوں پر خالص قومی تاریخی لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر ان کے صوبہ جات ہوں ۔ اس میں بنگالی ، سندھی ، بلوچ کے سیاسی مبارزین مل بیٹھے اس وقت خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی اپنی پارٹی تھی ورور پشتون کے نام سے جبکہ دیگر تمام اقوام کی الگ الگ اپنی پارٹیاں تھیں ان تمام پارٹیوں کو ملا کر نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کے منشور کا ایک نقطہ ون مین ون ووٹ تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ پاکستان میں جمہوریت ہوگی یہاں عوام کی حکمرانی ہوگی اور جس سرزمین پر جو قوم آباد ہیں وہ اپنی سرزمین پر حق حاکمیت کے اختیار مند ہونگے اور وہاں پر وہی فیصلے ہونگے جو وہاں کی عوام چاہیگی ۔ اس سے پہلے کے دورانیے میں سب سے زیادہ قربانیاں پشتونوں نے دی تھیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے میں پشتونوں نے جنگیں لڑی تھیں سیاسی جدوجہد کی تھیں قید وبند کاٹے تھے ۔ جس کے نتیجے میں انگریزی استعمار کا یہاں سے واپس جانا مقدر بن چکا تھا ۔ آزادی کے بعد یہاں میز پر جو لوگ بیٹھے انہوں نے پشتون قوم کے جغرافیے کا ادراک کیئے بغیر وہ فیصلے مسلط کیئے جس میں پنجابی ، سندھی اور بلوچ کے اپنے صوبے تو بنے لیکن پشتونوں کو بے سروپا ملک کے مختلف انتظامی ٹکڑوں میں تقسیم کیا۔ بنگالی کا اپنا وطن بنا اور دیگر تمام اقوام کے صوبے بنائے گئے۔ جس پر خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے احتجاج کیا اور اس سلسلے میں وہ باچا خان سے ملنے کیلئے کابل چلے گئے تاکہ ان سے مل کر انہیں یہ بتاسکے کہ پشتونوں کو کیوں بلوچوں کے حوالے کیا گیا اور اب بھی وقت ہے کہ اپنی غلطیوں اور غلط فیصلوں پر نظرثانی کرکے اسے صحیح کیا جائے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے بلوچوں اور سندھیوں سے بھی گزارش کی لیکن کسی نے بھی ان کی یہ بات نہیں مانی اور خان شہید تن وتنہا میدان میں رہ گئے اگر چہ ان تمام سیاسی رفیق کاروں سے خان شہید کا چالیس سالہ سیاسی رفاقت تھی لیکن انہیں مجبور ہوکر یہ دیرینہ رفاقت ختم کرنی پڑی اورکہا کہ میں بلوچ نہیں ہوں ہماراوطن بلوچوں کے ساتھ ایک ساتھ ضرور پڑا ہوا ہے لیکن بلوچوں کی اپنی سرزمین اپنا تاریخی وطن ہے اور پشتونوں کی اپنی الگ سرزمین ہے ۔جس کے ایک ایک انچ کی ملکیت واضع ہے اور یہاں ہم سیال قوم کی حیثیت سے اپنا صوبہ چاہتے ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خان شہید کے پاس صرف دو راستے بچے تھے ایک یہ کہ وہ خود کو تنہا سمجھتے ہوئے اس کام کو سخت سمجھتے ہوئے خاموش بیٹھ جاتے کہ اتنی بڑی سیاسی جدوجہد ، قید وبند کے نتیجے میں یہ صلہ ملا اور دوسرا راستہ یہ کہ اُٹھ کر اس کام کے خلاف جدوجہد کا نئے سرے سے آغاز کرکے پشتون عوام کو یہ بات سمجھائی جائے اور انہیں سیاسی ڈگر پر چلاکر پشتونوں کے اپنے الگ صوبے کا مطالبہ شروع کیا جائے اور خان شہید نے موخر الذکر کام کا انتخاب کیا جس میں ان کا ساتھ پشتونخوا وطن کے چند غیر تعلیم یافتہ غریب لوگوں نے دیا خان شہید اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنہ اوڑک میں بیٹھے اور پارٹی بنائی اس سُرخ سفید سبز پرچم کا اعلان کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہاں بلوچوں کی اقتدار بنی ، اسی دنوں ایک بلوچ سیاسی رہنماءنے پشین میں بات کہی کہ عبدالصمد کہتے ہیں مجھے پشتونستان چاہیے بالکل پشتونستان بنالیں لیکن لک پاس سے لیکر کچلاغ تک یہ بلوچوں کا وطن ہے کچلاغ سے آگے پشین وغیر ہ پر جہاں پشتونستان بنانی ہے بنالیں۔ اسی توبہ اچکزئی کے چند غیور لوگوں نے خان شہید کا ساتھ دیا محنت جاری رکھی پھر اچانک جہانی سیاست میں تغیر آئی ایک طوفان اُٹھا جس نے افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لیا اور یہ طوفان مسلسل کئی سالوں تک جاری رہا ۔ ان تمام حالات میں خان شہید کے اس غریب ساتھیوں کے لشکر کے محنت اور جدوجہد کے نتیجے میں کوئٹہ شہر پشتون افغان وطن کے تھکے ماندے لوگوں کیلئے آرام گاہ ثابت ہوئی ۔ جہاں پشتون قوم کے تمام قبائل وہ خان شہید جنہیں لوگ حساب میں نہیں لاتے تھے لیکن انہوں نے اپنے ساتھیوں جلات خان ملیزئی ، ملوک علیزئی ، محمد ترہ کئی ، غلام حیدر سلیمانخیل ، عبدالرحمن عشے زئی ، ملارحیم داد کاکوزئی وغیرہ ہمت کرکے خان شہید کے ساتھ ملکر ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس میں آج پشتون قوم کے تمام قبیلوں اور زئی وخیل کے لوگ شامل ہیں ۔ کوئٹہ شہر پشتونوں کا مسکن آرام گاہ اور آماج گاہ ہے کوئٹہ شہر آج ایک ایسے مرکز میں تبدیل ہوچکی ہے جس نے آدھے پشتون وطن کو محفوظ کیا ہوا ہے یہ اس پارٹی کے کارکنوں کی ہمت کے نتیجے میں ہوا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخوامیپ پشتون قوم کی پارٹی ہے ہم نے اس پارٹی سے ایک ایسی پارٹی بنانی ہے جس میں پشتون قوم کے تمام قبیلوں کے لوگ اپنے آپ کو ایسے محفوظ سمجھ رہے ہوں جس طرح ماں کی گود میں بچہ سکون محسوس کرتا ہے ۔ پارٹی نے کچھ بُرا نہیں کیا ہے لوگ پارٹی سے صرف اس لیئے نفرت کرتے ہیں کہ یہ پارٹی پشتونوں کو یکجا اور متحد کرنا چاہتی ہے ۔ زئی وخیلی اورنفرتوں کومٹانا چاہتی ہے ۔ کارکنوں کو پشتونخوا وطن پر اپنے قوم کی قومی اقتدار کے قیام کیلئے کام کرنا ہوگا آج کے اس تاریخی جلسہ عام میں ہزاروں کی تعداد میں شریک لوگوں کو کسی نے بھی کسی کو ایک روپیہ نہیں دیا یہ سب اپنے قوم کے بہتر مستقبل کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں ۔ لوگوں نے ہمارا بُرا چاہتے ہوئے ہمارے لوگوں کو اپنے وطنوں سے بیدخل کرنے کی کوشش کی جس کا فائدہ یہ ہواکہ آج کوئٹہ میں پشتون افغان قبیلوں کے ہر ٹبر کا فرد موجود اور خوش ہے خوشی اور امن سے زندگی بسرکررہا ہے ۔ آج کے زمانے میں دنیا کے تمام اقوام اپنے مفادات کیلئے کام اور سیاست کررہے ہیں اسی طرح آج کا ہمارا یہ جلسہ عام دنیا میں کہیں بھی کوئی دیکھ رہا ہو تو وہ پوچھے گا یہ کون ہیں اور کیا مانگ رہے ہیں بتانے پر وہ ہمارے مطالبات کے حق میں ہوجائینگے لیکن ہمیں ایک کام کرنا ہوگا اوردنیا کے تمام انسانوںکو یہ پیغام دینی پڑیگی کہ پشتون بحیثیت قوم نہ دہشتگرد ہے ، نہ فرقہ پرست اور نہ ہی وحشی یا دیگر مذاہب کے لوگوں سے نفرت کرنیوالے ۔ بلکہ پشتون امن پسند ، جمہوری اور محبت کرنیوالے لوگ ہیں ۔ انسانوں سے نفرت کو گناہ سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر ان تمام انسانوں کو الگ الگ نسلوں ،زبانوں اور قوموں میں پیدا کیا ہے ۔ قوموں کی تعریف نئے زمانے کے لوگ یوں کرتے ہیں کہ جس کی نسل زبان ، تاریخ ، جغرافیہ اور ثقافت ایک ہوں وہ ایک قوم کہلاتی ہے ۔ عیسیٰ علیہ اسلام کے ظہور سے بھی پہلے پشتون قوم یہاں آباد رہی ہے ۔ قبیلویت کے مثبت معنی میں ٹھیک ہے کہ اگر کسی قبیلے کے فر کو دوسرے قبیلے کے افرادناجائز تنگ کررہے ہوں اور اس کے قبیلے کے لوگ ان کا ساتھ دیں یہ ٹھیک ہے ۔ لیکن ایسی قبیلویت ٹھیک نہیں کہ آپ کے قبیلے کافرد ملامت ہو اور آپ ان کا ساتھ دو ۔ محمو د خان اچکزئی نے کہا کہ وہ بات قطعاً کسی قیمت پر دوسرے سے نہیں کہنی چاہیے جس نے کاآپ خود بُرا مناتے ہو۔ ہماراوطن دنیا جہاں کے نعمتوں سے پُر وطن ہے اور ہمارے نوجوان کوئلے کے کانوں میں مر رہے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے بچوں کو ہنر مند نہیں بنایا یہاں کے سارے نوجوان دن رات مہینوں تک گنتی ، بیلچہ مارے لیکن جاپان کے ان ہاتھوںکا مقابلہ نہیں کرسکتی جن ہاتھوں نے تھوڑے عرصے میں یہ گاڑی بنائی ہے ۔ اسی طرح لوگوں نے ٹیکنالوجی میںترقی کے منازل طے کرکے آج جس مقام پر پہنچنے ہیں اس مقام کو ہمارے وطن کے بچے بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ہمارے بچے ڈاکٹر ، انجینئر بن سکتے ہیں ہمارے اساتذہ کو یہ ہر صورت اپنے سکولوں کو بحال اور فعال بنانا ہوگا ۔ قوموں کی ترقی وترویج میں اساتذہ کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة رحمن میں جو نعمتیں بیان کی ہیں وہ سارے ہمارے وطن میں موجود ہیں اس کے باوجود ہم بھوکے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ان نعمتوں پر اختیار نہیں ۔اپنی سرزمین اور نعمتوں کو دوسروں کیلئے چھوڑنا بے غیرتی جبکہ دوسروں کی نعمتوں یا زمینوں پر قابض ہونا ظلم ہے ۔ ہم نے دونوں سے بچنا ہوگا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ توبہ اچکزئی غیرت مند بہادر اقوام کا وطن ہے جنگ جھگڑے نہیں پر امن طریقے سے اپنے انتخابات لڑنے ہونگے کسی نے ہمارے ساتھ دھاندلی کی تو پھر سارے لوگ چمن دھرنے کے طرز پر جنوبی پشتونخوا کے چپے چپے میں احتجاج کرینگے پھر کسی کو بھی راستوں پر گزرنے نہیں دینگے۔ ہم اپنے وطن کے تحفظ سے دستبردار نہیں ہونگے ۔ ان لوگوں کو شر م بھی نہیں آتی ۔ 80ہزار لوگ چمن دھرنے پر بیٹھے ہیں یہ لوگ سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں ۔ دنیا کا قانون یہ ہے کہ عوام حکومتوں کے بچوں کے مانند ہوتے ہیں کوئی حکومت بھی اپنے بچوں کو اس حد تک تنگ نہیں کرتی کہ انہیں دیوار سے لگایا جائے ۔ لوگوں کی زمینیں لائنوں کی دونوں جانب ہیں آپ انہیں اپنی زمینوں پر جانے کیلئے پاسپورٹ کا مطالبہ کررہے ہیں ، افغانستان کیلئے وفاقی حکومت کا بڑا وفد افغان رہنماﺅں سے ملنے گیا اور وہاں مذاکرات ہوئے لیکن ان پر آج عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ چمن پرلت نے جو بھی احتجاجی لائحہ عمل اعلان کیا ہم اس کا بھرپور ساتھ دینگے۔ الیکشن کے دن ہیں توبہ اچکزئی پارٹی کا ہر لحاظ سے سنگر رہا ہے اور انتخابات میں پارٹی کا بھرپور ساتھ دیگی ۔
You might also like