پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری کے طریقوں پر اتفاق رائے ہوگیا ہے، جس سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی توثیق کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جو کہ گزشتہ 19 برس سے زیر التوا ہے۔
نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے گزشتہ روز ریاض میں جی سی سی کے چیف مذاکرات کار کے ساتھ مذاکرات کے آخری دور میں شرکت کی۔
اس کا مقصد آزاد تجارتی معاہدے کے تحت سرمایہ کاری کے معاملات کو حتمی شکل دینا تھا، جو کہ آج دوحہ میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے ایک اہم اقدام تھا، جہاں پاکستان کے ساتھ اس معاہدے کو منظوری ملنے کی امید ہے۔
متفقہ سرمایہ کاری کا باب اب منظوری کے لیے جی سی سی کے وزرا کے سامنے پیش کیا جائے گا جو پہلے ہی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے، جی سی سی سیکریٹریٹ کو 6 رکنی جی سی سی ممالک کی جانب سے معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار ہے، اگر منظوری دی جاتی ہے تو یہ پہلا تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدہ ہوگا جو جی سی سی نے گزشتہ 15 برس کے دوران کسی بھی ملک کے ساتھ کیا ہوگا۔