یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آ گیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں پرتشدد مظاہروں کے بعد وزیر داخلہ لوراں نونیز کا استعفیٰ دینے کی پیشکش مسترد کردی ہے۔

صدارتی دفتر کے مطابق، میکرون نے وزیر داخلہ کو پولیس اور سکیورٹی اداروں میں کمان کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

 

فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق صرف فرانس میں ملک بھر کے مختلف شہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، جہاں احتجاجی مظاہرے کے دوران توڑ پھوڑ، آتش زنی اور جھڑپوں کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

 

فرانس میں جاری ان مظاہروں کا آغاز ستمبر کے وسط میں پیرس کے نواحی علاقے میں اساتذہ کی جانب سے عملے کی کمی کے خلاف کی جانے والی ہڑتال سے ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں پھیل گیا اور اس میں مہنگائی، خوراک اور توانائی کی بلند قیمتوں کے خلاف وسیع تر معاشی تحفظات شامل ہو گئے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P