خلیجی ممالک دیکھ چکے امریکی نام نہاد سکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے: ایران

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ مغربی ایشیا میں امریکا اور اسرائیل کی بالادستی پر مبنی علاقائی نظام کی بحالی کی اجازت نہیں دے گا، جبکہ خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ خطے کے ممالک اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ امریکا کی نام نہاد سیکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں امریکی سیکیورٹی نظام کی افادیت پر علاقائی ممالک کے سامنے سوالات اٹھ چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس تجربے سے سبق سیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم پر انحصار کرکے خود کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، چہ جائیکہ وہ دوسرے ممالک کو تحفظ فراہم کرسکے، ان کے بقول امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار جاری رکھنے کی صورت میں خطے کے ممالک کو غلط اندازوں اور فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایرانی فوجی ترجمان نے واضح کیا کہ ایران مغربی ایشیا میں امریکا اور اسرائیل کے زیرِ اثر علاقائی نظام کی بحالی کی اجازت نہیں دے گا۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور تیل و گیس کی عالمی ترسیل کی صورت حال بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں مارچ سے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے، جہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی 20 فیصد سے زائد ترسیل ہوتی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں پیٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ایران خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بناتا رہا ہے، جبکہ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یمن کے حوثیوں نے بھی سعودی عرب میں تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔، حوثیوں کی جانب سے باب المندب میں بحری راستوں اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ متعدد خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں، جنہیں ان ممالک کے دفاع اور سلامتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ایران اور حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں ان دفاعی انتظامات کی افادیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P