ایرانی صدر نے ٹی وی پر جاری اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کی بیان بازی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ٹرمپ بتائیں کہ کیا انہوں نے میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے؟ ایران کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے بتائیں کہ انہیں آخر حاصل کیا ہوا ہے؟ مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اقدامات سے اپنے وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔ اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باضابطہ طور پر جنگ میں داخل ہو چکا ہے، اب کوئی مفاہمتی یادداشت عمل میں نہیں رہی۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور پائیدار ترقی کا سٹریٹجک ایکشن پلان منظور کر لیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے 180 اراکین نے مطالبہ کیا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم کی جائے اور نیا راستہ اختیار کیا جائے۔

 

چار ماہ میں منعقد اس پہلے اجلاس میں ضوابط میں ترامیم بھی منظور کی گئیں جن کے تحت ہنگامی حالات میں ورچوئل اجلاس منعقد کیا جا سکے گا، اجلاس میں آبنائے ہرمز کی سٹریٹیجک منیجمنٹ سے متعلق بل بھی پیش کیا گیا۔

 

290 رکنی پارلیمنٹ میں 180 اراکین نے بیان جاری کر کے امریکا سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کا مطالبہ کیا، کئی اراکین انتقام کی نشانی سرخ پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے۔

 

اجلاس میں مسلح افواج کی مکمل حمایت کرنے کا عہد کیا گیا اور خصوصی مذاکراتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More