آئندہ مالی سال میں دفاع کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے اور قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب رپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز ہے جب کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔
حکومت نے افراط زر کی شرح کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کر لیا، گریڈ ایک سو 22 تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے، اسی طرح کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے جب کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جب کہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس لگانے، 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح مقررکرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جب کہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں پر یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز ہے، سالانہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنا ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے جب کہ بچوں کے فارمولا دودھ، گھی ،کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیاء خورونوش مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
بجٹ میں سپرٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی تجویز ہے۔
بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا جبکہ اس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر اڑھائی بجے طلب کیا گیا ہے، پیپلز پارٹی نے بھی دو بجے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔
وفاقی بجٹ قومی اسمبلی کے بعد شام پانچ بجے سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔