حج کے موقع پر اپنے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اللہ اکبر کا نعرہ وہ ہتھیار ہے جس نے امت مسلمہ اور مزاحمتی محاذ کے مجاہد نوجوانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کیا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے حج کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ اتحاد ایران سے لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک، جبکہ افریقا اور یمن سے پاکستان اور دنیا کی تمام آزاد قوموں تک پھیلا ہوا ہے۔
ٹیلی گرام چینل پرایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ خلیجی طاقتیں اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں رہیں گی اور امریکا کو خطے میں اب محفوظ پناہ گاہ حاصل نہیں ہوگی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن اپنے تین ماہ پرانے تنازع کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک پر بات چیت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وقت کا پہیہ پیچھے نہیں گھومتا، ، خطے میں صہیونی نظام اپنے کمزور اور اختتامی مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے، ایرانی انقلاب نے خطے میں بیرونی اثر و رسوخ کو کم کیا، مستقبل کی اسلامی تہذیب مسلم امہ کا مشترکہ ہدف ہونا چاہئے، مسلم ممالک کو بیرونی دباؤ سے آزاد کردار ادا کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی اقوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گی، دشمن کو تباہ کن حملوں سے بالکل بے بس کر دیا، امریکی جارحیت کے جواب میں ایران نے ہتھیار نہ ڈال کر اسے ایک تھپڑ رسید کیا، دشمن کے خلاف ایران اور لبنان میں شاندار فتح کا سبب اللہ اکبر کے عقیدے پر یقین ہے۔
ایرانی سپریم لیڈرنے کہا کہ ہر مسلم ملک کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے مستقبل کے لیے کردار ادا کرے، اس سال حج کے موقع پر مرگ بر امریکا اور مرگ بر اسرائیل کا نعرہ ہر مسلمان کی زبان پر ہو گا۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں اس وقت اقتدار سنبھالا جب ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای امریکا اسرائیل کے فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے، مجتبیٰ خامنہ ای اب تک عوامی طور پر منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔