وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں آئی بی آئی کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک چین اقتصادی اور تجارتی روابط کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون پاک چین ہمہ موسمی سٹریٹجک شراکت داری کا اہم ستون ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان چینی کمپنیوں کو کاروبار کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا تاکہ دوطرفہ اقتصادی روابط مزید مستحکم ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم
ان کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل اسلام آباد میں آئی بی آئی کارپوریشن کے وفد کی میزبانی خوش آئند رہی اور حکومت پاکستان کمپنی کی پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی حکومت کے چار اہم ترجیحی شعبوں میں شامل ہیں، جن پر تیزی سے کام جاری ہے۔
تقریب میں شریک نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں پاکستان کا مستقبل قرار دیا اور کہا کہ حکومت نوجوانوں کو فنی تربیت اور مختلف شعبوں میں مہارتیں فراہم کرنے کے لیے وسیع اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان نوجوانوں کے قریبی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان چین زرعی تعاون ورکشاپ سے خطاب
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان چین ایگریکلچرل تعاون پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے معروف زرعی تحقیقی ادارے کا دورہ ان کے لیے باعث اعزاز اور خوشی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ ادارہ زرعی تحقیق، ترقی اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ میں عالمی شہرت رکھتا ہے جبکہ ’’کاس‘‘ کو نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے اعزازی پروفیسر شپ دینے پر ادارے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز صرف ان کیلئے نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کیلئے باعث فخر ہے، وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے عظیم دوست ملک چین میں موجود ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنے دوستانہ اور قریبی سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں اور یہ تاریخی موقع دونوں ممالک کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین ’’آہنی دوستی‘‘ کو زراعت، صنعت، تحقیق و ترقی اور دیگر سٹریٹجک شعبوں میں نئے انقلاب میں تبدیل کیا جائے گا، کسانوں، سائنسدانوں اور نوجوان کاروباری افراد کا کردار معیشت میں جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ زرعی تعاون کے مفاہمتی معاہدوں کو عملی اقدامات اور مؤثر پیش رفت سے جوڑنا ہوگا تاکہ پاکستان کے زرعی شعبے میں مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کو مضبوط بنانے کیلئے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ضروری ہے جبکہ حقیقی زرعی تبدیلی کیلئے تحقیقی مراکز کو دوبارہ فعال اور تحقیق و ترقی کیلئے نئی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہوگا۔