قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی غیرجانب داری پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف میرے ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے اور نیب کی کارکردگی بہتر قرار دینے کے باوجود اس کی رپورٹ کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹینٹ جنرل(ر) نذیراحمدبٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے 2025 میں ریکارڈ ریکوریز کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ کو سنجیدہ نہ لیں، میرے لیے آئی ایم ایف کی رپورٹ کوئی معنی نہیں رکھتی، آئی ایم ایف ہمیشہ ہم سے نئے مطالبات کرے گا، بتائیں کیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل غیرسیاسی ہے، اس کی فنڈنگ کون کرتا ہے، 3 لوگ بیٹھ کر پورے ملک میں سروے کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں نیب کی کارکردگی بہتر بتائی گئی ہے اس کے باوجود کہتا ہوں آئی ایم ایف میرے ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ میں سب سے کرپٹ شمالی کوریا کو دکھایا گیا ہے اور اس کے بعد ایران کا نمبر ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ متعصبانہ ہے۔
لیفٹننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے کہا کہ نیب نے 2019 سے جتنی بھی رقم مجرمان سے برآمد کی اس میں کوئی رقم بھی اپنے پاس نہیں رکھی، اسلام آباد:نیب اور وزارت ہاؤسنگ پراپرٹی ریفارمزلے کر آرہے ہیں، ایسی پراپرٹی ریفارمز آرہی ہیں جن کے بعد کوئی بھی کسی شہری سے پراپرٹی فراڈ نہیں کرسکے گا۔
چیئرمین نیب نے پارک روڈ پر جاری انڈر پاس منصوبے پر سوموٹو ایکشن لینے کا فیصلہ کیا اور بتایا کہ صحافیوں کے مطالبے پر ہم اس منصوبے کی ٹائم لائن کا جائزہ لیں گے۔
پراپرٹی ریفارمز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ریفارمزکے بعد کسی بھی شہری کے ساتھ پلاٹوں کا فراڈ کرنا ناممکن ہو جائے گا، مجوزہ ریفارمز کے تحت پراپرٹی لین دین صرف بینکنگ چینل کے ذریعے ہوسکے گی، ہاؤسنگ سوسائیٹیز فائلز نہیں بلکہ پلاٹ دینے کی پابند ہوں گی۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹ لین دین کا معاہدہ سہ فریقی ہوگا، جس میں بیچنے والا، خریدار اور ریگولیٹر شامل ہوگا، ڈیولپر پابند ہوگا کہ وہ مقرر کردہ وقت میں پلاٹ ڈیولپ کرکے دے۔
نیب کے اختیارات میں تبدیلی سے متعلق سوال پر چیئرمین نیب نے کہا کہ میرا خیال ہے نیب کا دائرہ کار50 کروڑسے کم کرکے 10 سے 15کروڑ کر دیا جائے، بے نامی قانون کی مکمل تعریف اور پراپرٹی کی ویلیو کا طریقہ کار بہتر بنایا جائے۔