وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم ایران کے ساتھ بدستور رابطے میں ہے جبکہ ایران قیادت کے مسائل سے دوچار ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان آنا کیلی نے بتایا کہ مذاکرات کار بدستور ایرانیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ جنگ کے باعث وہ قیادت کے مسائل سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ صرف اس وقت معاہدہ کریں گے جب امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ایران کو دھمکی دی تھی کہ اچھے انداز میں جلد جوہری معاہدہ کریں، ایران کو معلوم نہیں ہے کہ جوہری طاقت سے دستبرداری کا معاہدہ کیسے کیا جاتا ہے، اس لیے ان کے لیے بہتر ہے کہ جلد معاہدہ کریں۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کی تصدیق کی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کی گئیں نئی تجاویز پر غور کیا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمے اور خطے میں کشیدگی میں کمی تھا۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی تجاویز میں آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہے تاہم شرط رکھی گئی ہے کہ اس کے لیے جنگ کا خاتمہ کیا جائے، اسی طرح ایران جوہری پروگرام کے حوالے سے معاملات اگلے مرحلے میں طے کرنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے تجاویز کے تبادلے کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی قیام کے لیے کوششیں تاحال جاری ہیں، ہماری کوششوں کے باعث جنگ بندی میں توسیع ہوئی ہے جو ابھی جاری ہے۔