نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا معاملہ؟ وفاقی حکومت نے تمام صوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کے بعد وفاق اور صوبوں سے کارکردگی رپورٹ طلب کر لی گئی، تمام صوبوں کو رپورٹس 4 مئی تک جمع کرانے کی ڈیڈ لائن دیدی گئی۔
تمام سٹیک ہولڈرز کو ایکشن پوائنٹس پر اپ ڈیٹڈ پیشرفت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، وزارتِ پلاننگ کو سوشیو پولیٹیکل ڈومین کی مانیٹرنگ کا مرکزی کردار سونپ دیا گیا۔
تمام صوبوں اور وفاقی اداروں کیلئے یکساں رپورٹنگ فارمیٹ فراہم کیا گیا، رپورٹس براہ راست اپیکس کمیٹی کے سیکرٹریٹ کو بھجوانے کے احکامات دیئے گئے۔
ذرائع کے مطابق تاخیر یا ناقص رپورٹنگ پر متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن کےلئے کمیٹی کو سفارشات بھجوائے جانے کا امکان ہے۔
سوشیو پولیٹیکل ڈومین میں اقدامات، بیانیہ سازی اور ہم آہنگی سے متعلق خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا، حساس نوعیت کے ایکشن پوائنٹس پر بھی تفصیلی رپورٹس طلب کی گئیں۔
نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جامع جائزہ لینے کیلئے ڈیٹا اکٹھا کرکے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، انتہا پسندی کے تدارک کیلئے نیشنل کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم ایکٹ پر پیشرفت رپورٹ مانگی گئی۔
مدارس کی رجسٹریشن اور مدرسہ و مسجد ریفارمز پر عملدرآمد کی تازہ صورتحال سے بھی آگاہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پسماندہ علاقوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بھی آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیانیے کا تدارک، کیا اقدامات اٹھائے گئے، دئیے گئے ٹاسک پر کتنا عملدآمد ہوا؟ پوائنٹس وائز رپورٹ طلب کی گئی، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق بھی رپورٹ مانگی گئی۔