بھارتی ریاست تمل ناڈو میں اداکار و سیاستدان وِجے کی سیاسی ریلی میں بھگدڑ مچ گئی، جس ے نتیجے میں 39 افراد ہلاک ہو گئے۔
گزشتہ روز بھارتی ریاست تمل ناڈو میں وجے تھلاپتی کی سیاسی جماعت کی ریلی میں بھگدڑ مچ گئی، جس کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک ہوگئے، جب کہ 30 سے زائد زخمی ہیں، یہ افسوسناک واقعہ ضلع کارُو کی ایرودے ہائی وے پر پیش آیا۔
حکام اور عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ہزاروں افراد گھنٹوں تک شدید گرمی میں بغیر مناسب حفاظتی انتظامات کے اپنے پسندیدہ ایکشن ہیرو کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے انتظار کرتے رہے۔
تمل ناڈو میں تقریباً 27 ہزار افراد ایک عوامی سڑک پر جمع ہوئے تاکہ وجے کو دیکھ سکیں، لیکن جیسے ہی اداکار اسٹیج پر نمودار ہوئے، ہزاروں مداح ان کی طرف لپکے اور دھکم پیل کے دوران بھگدڑ مچ گئی، جس سے 39 افراد ہلاک ہو گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ گھنٹوں کی تاخیر، ناکافی پولیس کی موجودگی اور کچھ لوگوں کا درخت کی شاخ سے گر کر نیچے موجود لوگوں پر آنا حادثے کی وجوہات میں شامل تھے۔
ریاستی پولیس نے وجے کی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف فوجداری کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سینئر پولیس اہلکار وی سیلوراژ نے رائٹرز کو بتایا کہ مقدمہ درج کرنا ممکنہ الزامات کی طرف پہلا قدم ہے اور تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اصل میں 10 ہزار افراد کے اجتماع کی اجازت طلب کی تھی، لیکن ہجوم اس سے دوگنا زیادہ تھا۔
وجے جلسے سے خطاب کر رہے تھے جب ہجوم اچانک بڑھ گیا، جس کی وجہ سے انہیں تقریر روکنی پڑی۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ ہجوم کے بڑھنے سے پہلے وہ حامیوں کو پانی کی بوتلیں دے رہے تھے، اس واقعے کے بعد 51 سالہ وجے نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا دل اس المیے پر ٹوٹ گیا ہے۔
ریاست کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں 9 بچے بھی شامل ہیں اور واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایک زندہ بچ جانے والے شخص بیکنشکا نے دی ہندو اخبار کو بتایا کہ ہجوم نے اچانک اسے دھکیل دیا اور بعد میں وہ بے ہوش ہو گیا، دیگر افراد نے کہا کہ ناقص انتظامات اور طویل انتظار نے صورتحال کو خطرناک حد تک قابو سے باہر کر دیا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق حامی جو درخت کی شاخ پر چڑھ گئے تھے، ان کے نیچے گرنے کے بعد ہجوم میں خوف پھیل گیا۔
واضح رہے کہ بھارت میں بڑے اجتماعات کے دوران ہلاکت خیز بھگدڑ کے واقعات بار بار پیش آتے رہتے ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں شمالی بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں ایک مقدس مندر میں بھگدڑ کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ پچھلے سال اتر پردیش میں ہندو نماز کے اجتماع میں 121 افراد ہلاک ہوئے تھے۔