بھارت کے عالمی شہرت یافتہ سابق کرکٹر، کپتان اور بلے باز محمد اظہر الدین نے اپنی نئی اننگ کا شاندار آغاز کردیا۔
مایہ ناز بیٹر محمد اظہرالدین نے جہاں کھیل کے میدان میں چھکوں اور چوکوں کی برسات جاری رکھی تھیں وہیں سیاست کے میدان میں بھی بڑوں بڑوں کے چھکے چھڑا دیئے۔
محمد اظہر الدین کی سیاسی وابستگی کانگریس کے ساتھ ہیں جس کے ٹکٹ پر وہ ریاستی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔
اظہر الدین نے جس طرح کرکٹ کے مداحوں کو کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح حلقے کے عوام کی امنگوں پر بھی اترے۔
یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے محمد اظہر الدین کو ریاست تلنگانہ کی کابینہ میں بھی اہم ذمہ داری سونپ دی۔ انھوں نے وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
اظہرالدین نے اللہ کے نام پر حلف اٹھایا اور تقریب کے اختتام پر جے تلنگانہ اور جے ہند کے نعرے لگائے۔
ان کے بیٹے اسد الدین اظہر جو حال ہی میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے ہیں بھی تقریب میں شریک تھے۔
اظہرالدین کو اقلیتی امور کا قلمدان دیا جانے کا امکان ہے۔ وہ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی کابینہ میں شامل ہونے والے پہلے مسلمان وزیر ہیں۔
ذرائع کے مطابق اظہرالدین کو اقلیتی بہبود کا قلمدان دیا جانے کا امکان ہے۔
اظہرالدین کی کابینہ میں شمولیت پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
تلنگانہ میں بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے اسے انتخابی خوشامدانہ سیاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ جوبلی ہلز کے مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے کیا گا جہاں ضمنی الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔
بی جے پی نے اس معاملے پر چیف الیکشن آفیسر کو باضابطہ شکایت بھی درج کرائی ہے۔
تاہم اظہرالدین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میری تقرری کا ضمنی انتخاب سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے کسی کو بھی اپنے حب الوطنی کے ثبوت دینے کی ضرورت نہیں۔