وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت تعلیم اور ورک فورس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بچوں کی اے آئی ٹولز میں دلچسپی گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی ہو گئی ہے جب کہ کاروباری ادارے بھی انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اے آئی کی ترقی کو صرف مارکیٹ کی قوتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ اس کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے گوگل کے ریجنل اے آئی ڈیولپر ایکو سسٹم اینڈ کمیونٹیز ٹیم سے ملاقات کی جس کا مقصد پاکستان میں اے آئی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے اسٹریٹجک تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔